ایشیا کپ کا سب سے بڑا معرکہ آج دبئی میں ہوگا، پاکستان اور بھارت آمنے سامنے
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
دبئی (نیوز ڈیسک) ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کا ہائی وولٹیج ٹاکرا آج دبئی میں ہوگا جہاں روایتی حریف پاکستان اور بھارت شام ساڑھے 7 بجے پاکستانی وقت کے مطابق مدمقابل آئیں گے۔ دونوں ٹیمیں جیت کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ مقابلہ رواں سال جنگ کے بعد پہلا ٹکراؤ ہوگا۔
پاکستان اور بھارت چھ ماہ میں دوسری بار آمنے سامنے ہوں گے۔ اس سے قبل دونوں ٹیموں کا سامنا چیمپئنز ٹرافی میں ہوا تھا۔
پاکستانی شائقین کی نظریں فخر زمان، صائم ایوب، سلمان آغا اور حارث پر جمی ہیں جبکہ بھارتی ٹیم شبمن گل، سوریا کمار یادیو اور جسپریت بمراہ پر انحصار کر رہی ہے۔
حالیہ کارکردگی میں دونوں ٹیمیں زبردست فارم میں ہیں۔ بھارت نے ایشیا کپ میں متحدہ عرب امارات کو 9 وکٹوں سے شکست دی، جبکہ پاکستان نے افغانستان اور یو اے ای کو ہرا کر سہ ملکی سیریز جیتی۔
ریکارڈ کے مطابق ایشیا کپ میں بھارت نے پاکستان کے خلاف اب تک 19 میچوں میں سے 10 جیتے ہیں جبکہ پاکستان 6 میں کامیاب رہا ہے۔ پاکستان نے بھارت کے خلاف آخری فتح 2022 میں حاصل کی تھی۔ بھارت 8 بار ایشیا کپ کا فاتح بن چکا ہے جبکہ پاکستان نے یہ اعزاز دو مرتبہ حاصل کیا ہے۔
پاکستانی شائقین بھارت کے خلاف کامیابی کے لیے پُرامید ہیں۔ گزشتہ روز دبئی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی بلے باز صائم ایوب نے کہا کہ پاک بھارت میچ ہمیشہ بڑا مقابلہ ہوتا ہے، ٹیم اس کے لیے پرجوش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکٹ خشک ہے اور پہلے بیٹنگ بہتر آپشن ہوگا۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایشیا کپ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی