پیرو نے ورلڈ کپ آف بریک فاسٹ کا دلچسپ مقابلہ جیت لیا، معمولی فرق سے وینزویلا کو شکست
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
جنوبی امریکا کے ملک پیرو نے ورلڈ کپ آف بریک فاسٹ کا دلچسپ مقابلہ جیت لیا، یہ ایک وائرل آن لائن مقابلہ تھا جسے ہسپانوی اسٹریمر (انٹرنیٹ سلیبریٹی) ایبائی لانوس نے منعقد کیا تھا۔
اس مقابلے میں پیرو کے مشہور ناشتہ پَن کون چچّرون (ایک مخصوص جانور کے نمکین گوشت سے تیار کیا جانے والا برگر سے مماثل) نے وینزویلا کی رینا پیپیادا آریپا (وینز ویلا انداز کا چکن، ایواکاڈو اور مایونیز سے تیار ہونے والا برگر) کو معمولی فرق سے شکست دی۔
انفو بیس کے مطابق ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور یوٹیوب شارٹس پر مداحوں کی جانب سے حتمی ووٹنگ میں پیرو کو تقریباً 12.
اس مقابلے میں 16ملکوں نے حصہ لیا، جن میں امریکہ، اسپین، میکسیکو، ایکواڈور اور جاپان بھی شامل تھے۔ جیتنے والی ڈش جو کہ پیرو کی ایک کلاسک اتوار کی صبح کا اسٹریٹ ناشتہ ہے، جس میں فرائی کیا ہوا مخصوص گوشت، شکر قندی، پیاز کی چٹنی اور فرنچ ڈبل روٹی شامل ہیں۔
ایبائی لانوس جو دنیا کے سب سے بااثر اسٹریمرز میں سے ایک ہیں، انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ لیما (پیرو کا دارالحکومت) کا سفر کریں گے تاکہ سنہری فرائنگ پین ٹرافی جیتنے والوں کو دے سکیں۔
اس جیت سے پیرو میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور پیرو کی صدر دینا بولوارٹے نے قوم کو مبارکباد دی، جبکہ وزارتِ ٹرانسپورٹ اور مواصلات نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ پیرو کے پاس دنیا کا بہترین ناشتہ موجود ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔