data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت سیلاب سے متاثرہ کاشتکاروں کی بھرپور مدد کر رہی ہے اور بلاول بھٹو کی ہدایت پر کسانوں کے لیے ریلیف پیکیج تیار کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی ایمرجنسی کا نفاذ ناگزیر ہے تاکہ گندم کی ممکنہ قلت سے بچا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے کورنگی میں مرکز برائے معذوری شمولیت کا افتتاح کیا اور کہا کہ سندھ حکومت امن و امان کی بحالی اور خصوصی افراد کو معاشی عمل میں شامل کرنے کے لیے بھی پرعزم ہے۔، مرکز محکمہ بحالی و بااختیاری معذوران سندھ حکومت نے “ناو پاکستان ڈس ایبیلٹی پروگرام” کے تعاون سے قائم کیا ہے۔وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بڑے پیمانے پر ہونے والے سیلابی نقصانات کے بعد زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے زرعی ایمرجنسی کے اعلان اور کمیٹی کے قیام پر اظہار تشکر کیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر کسانوں کے لیے ریلیف پیکج تیار کر لیا ہے۔ ہم اپنے کاشتکاروں کی ہر ممکن مدد کریں گے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ سے امداد لینے کے فیصلے کی بھی تائید کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد