اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 18 ستمبر 2025ء) افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ روزا اوتنبائیوا نے سلامتی کونسل کو ملکی حالات سے آگاہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ افغان عوام کی خواہشات کے مطابق ان کے ملک اور عالمی برادری کے مابین تعاون کی راہ نکال لی جائے گی جس سے وہاں خواتین اور لڑکیوں کے لیے حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

افغان دارالحکومت کابل سے ویڈیو لنک کے ذریعے سلامتی کونسل میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تین سال قبل جب وہ افغانستان پہنچیں تو وہاں عبوری حکام میں دو طرح کے رجحانات پائے جاتے تھے۔

ایک حلقہ افغان عوام کی ضروریات کو ترجیح دینے کا حامی تھا تو دوسرا خالص اسلامی نظام کے قیام پر زور دیتا تھا جس نے عوام پر بہت سے پابندیاں نافذ کی ہیں۔

(جاری ہے)

Tweet URL

طالبان حکام کی جانب سے لڑکیوں کے چھٹی جماعت سے آگے تعلیم حاصل کرنے پر پابندی نے ایک پوری نسل کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور اس سے ملک کو طویل المدتی طور پر بہت بھاری نقصان ہو سکتا ہے جبکہ ان پابندیوں سے افغان معاشرے میں شدید بے چینی اور مایوسی پیدا ہو رہی ہے۔

'یو این ویمن' کے مطابق افغان عوام کی اکثریت لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کی مخالف ہے جبکہ عالمی بینک نے کہا ہے کہ اس پابندی کی وجہ سے افغان معیشت کو سالانہ 1.

4 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

مثبت اشاریے

انہوں نے اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد قدرے مثبت پیش رفت کی نشاندہی بھی کی جس میں مسلح تنازع اور وسیع پیمانے پر تشدد میں نمایاں کمی بھی شامل ہے جس کے نتیجے میں ملک کے بیشتر حصوں میں سلامتی کی صورتحال قدرے مستحکم ہو گئی ہے۔

2023 کے اوائل میں پوست کی کاشت پر عائد کی جانے والی پابندی بڑی حد تک برقرار ہے جس کے فوائد نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کو بھی حاصل ہو رہے ہیں۔

عام معافی کے حکم پر مجموعی عملدرآمد حوصلہ افزا ہے۔ ملک میں اقوام متحدہ کے معاون مشن (یوناما) اور عبوری حکام کے درمیان تعمیری روابط بھی موجود ہیں جن کے نتیجے میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ٹیموں کو ملک کی تمام 34 جیلوں تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔

بحرانوں کا طوفان

اوتونبائیووا نے کہا کہ مردوخواتین، لڑکیوں اور اقلیتوں پر عائد کی جانے والی بڑھتی ہوئی پابندیوں اور ان پر عملدرآمد سے عوام میں عبوری حکام کے خلاف بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔

ملک کو رواں سال انسانی امداد میں تقریباً 50 فیصد کٹوتی کا سامنا ہے اور اگلے سال اس میں مزید کمی کا امکان ہے۔ یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ یہ کٹوتیاں جزوی طور پر افغانستان کی خواتین مخالف پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔

ملکی معیشت اب بھی مشکلات کا شکار ہے اور خاص طور پر ہمسایہ ممالک سے بڑی تعداد میں مہاجرین کی واپسی کے نتیجے میں اس پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔ ملک کو خشک سالی اور دیگر موسمیاتی حوادث کا سامنا بھی ہے جس سے مسائل مزید بڑھ گئے ہیں۔ آئندہ برسوں میں 60 لاکھ آبادی پر مشتمل دارالحکومت کابل دنیا کا ایسا پہلا بڑا شہر بن سکتا ہے جہاں پانی ختم ہو جائے گا۔

مسائل کے حل کی امید

رواں ماہ کے اختتام پر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے والی روزا اوتنبائیوا نے کہا کہ کابل اور دیگر علاقوں میں اقوام متحدہ کے دفاتر میں خواتین ملازمین کی رسائی کو روکنے جیسے اقدامات سے اقوام متحدہ کی امدادی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔ سلامتی کونسل طالبان حکام سے خواتین کے روزگار پر پابندی کے خاتمے کی اپیل کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا جامع نقطۂ نظر واحد کثیرالجہتی فریم ورک مہیا کرتا ہے جو عالمی برادری اور عبوری حکام کے درمیان رابطے کا ذریعہ اور ایک ایسا سیاسی راستہ ہے جس کے ذریعے ان پیچیدہ مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے جو افغانستان کی عالمی نظام میں دوبارہ شمولیت کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے افغان عوام کی اقوام متحدہ عبوری حکام نے کہا

پڑھیں:

کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم

وزیراعظم شہباز شریف سے ملک کے معروف صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد نے ملاقات کی، جس میں ملکی معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کے حوالے سے کاروباری برادری کی تجاویز اور آرا پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں میاں محمد منشا، عارف حبیب، عاطف باجوہ، محمد علی ٹبا، مصدق ذوالقرنین، زیاد بشیر، شہزاد سلیم، زیلاف منیر، عمر سعید، عمر منشا، یوسف سعید، کامران ارشد، خرم مختار، آصف پیر، سلطان گوہر اعجاز، فواد انور، ذوالفقار حیات، جاوید اقبال، یوسف حسین، عامر ابراہیم، خواجہ مسعود اختر اور اعجاز نبی سمیت ملک کی نمایاں کاروباری شخصیات شریک ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ چین، 2 اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کرلیے گئے

وزیراعظم نے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری پاکستان کی عالمی سطح پر پہچان اور ملک کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کے شکر گزار ہیں اور حکومت و نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری ہی پائیدار معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معیشت سے متعلق پالیسی سازی میں کاروباری برادری سے مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے معروف صنعتکاروں اورکاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات،مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کے شکر گزار ہیں،بجٹ میں عوام کو ریلیف کیلئے اقدامات شامل کئے جا رہے ہیں،غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات کئے جا رہے… pic.twitter.com/7ST7m94Wc4

— Ali Tanoli (@alitanoli889) June 3, 2026

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور یہی ملکی معاشی پالیسی کا بنیادی محور ہے۔

وزیراعظم کے مطابق غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بھی مختلف تجاویز شامل کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، حکومت ایسی صنعتوں کے فروغ کے لیے کوشاں ہے جن سے ملکی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہو اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف سے چینی وفد کی ملاقات، پاک چین دوستی کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ صنعت، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کی ترقی سے معیشت مزید مضبوط ہوگی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے تکنیکی اور فنی تربیتی پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔

ملاقات کے دوران وفد کو کاروبار، صنعت اور تجارت کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات کے فوری تصفیے کے لیے ٹیکس ٹریبونلز میں اصلاحات کی گئی ہیں اور ان میں شفاف طریقہ کار کے تحت تقرریاں عمل میں لائی گئی ہیں، اس کے علاوہ اسپیشل کمرشل کورٹس کے قیام کے لیے کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے۔

شرکا کو بتایا گیا کہ کراچی کی بندرگاہوں سے اندرون ملک تجارتی رسائی بہتر بنانے کے لیے موٹروے ایم 10 کی اپ گریڈیشن اور پیپری فریٹ کوریڈور پر کام جاری ہے جبکہ کھاریاں اور کے درمیان راولپنڈی موٹروے ایم 13 کی تعمیر سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان سفری فاصلے میں کمی آئے گی۔

بریفنگ کے مطابق پاکستان ریلوے کی ایم ایل 1 اور ایم ایل 2 اپ گریڈیشن سے ریلوے انفرا اسٹرکچر اور مال برداری کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی، حکومت قومی سطح پر مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے نیشنل اے آئی ٹرانسفارمیشن پلان بھی تشکیل دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں: چین میں لیبر مہنگی ہوچکی، چینی کمپنیاں صنعتیں پاکستان منتقل کریں، وزیراعظم شہباز شریف کی پیشکش

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ شوگر اور سیمنٹ سیکٹر میں ویڈیو اینالیٹکس سسٹم کی تنصیب سے ریونیو وصولیوں میں بہتری آئی ہے۔

اس موقع پر کاروباری رہنماؤں نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا اور وزیراعظم کی قیادت میں معاشی بحالی کے سفر اور بہتر مالیاتی نظم و نسق پر اعتماد کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا پُرامن باہمی طرزِ زندگی کے عالمی دن پر امن، رواداری اور انسانی حقوق کے فروغ کا عزم

وفد نے ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے، سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور دستاویزی معیشت کے فروغ، ٹیکس اصلاحات اور کاروباری آسانیوں کے اقدامات کو سراہا۔

کاروباری رہنماؤں نے صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ لیوی کے خاتمے اور ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگیوں پر وزیراعظم کا شکریہ بھی ادا کیا۔

شرکاء نے آئندہ بجٹ کی تیاری میں کاروباری برادری کو اعتماد میں لینے کے حکومتی اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے قومی معیشت کی مضبوطی، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے اپنی تجاویز وزیراعظم کو پیش کیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بجٹ ٹیکس نیٹ شراکت دار شہباز شریف صنعتکار کاروباری برادری کاروباری شخصیات معاشی ترقی وزیراعظم شہباز شریف

متعلقہ مضامین

  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ