رحیم یار خان، انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کی بدولت انڈھڑ گینگ کی قید سے 9 مغوی بازیاب
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
رحیم یار خان:
رحیم یار خان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران انڈھڑ گینگ کی قید سے 9 مغویوں کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔
یہ کارروائی چند روز قبل سی پیک روٹ پر پیش آنے والے سنگین واقعے کے بعد عمل میں لائی گئی۔
ذرائع کے مطابق انڈھڑ گینگ کے مسلح افراد نے سی پیک پر سفر کرنے والی ایک مسافر گاڑی پر حملہ کیا تھا، جس میں 11 افراد کو اغوا جبکہ 6 افراد کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا گیا تھا۔
بعد ازاں تین روز قبل 2 مغویوں کو رہا کر دیا گیا تھا جس کے بعد باقی مغویوں کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن جاری تھا۔
ذرائع کے مطابق گینگ کے سرغنہ تنویر انڈھڑ نے مغویوں کی رہائی کے بدلے اپنے بھائی منیرا انڈھڑ کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
تاہم سیکیورٹی اداروں نے کسی قسم کے دباؤ میں آئے بغیر مربوط حکمت عملی اور مسلسل نگرانی کے بعد آج کامیاب کارروائی کی جس کے نتیجے میں باقی 9 مغویوں کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔
ڈی پی او رحیم یار خان عرفان علی سموں نے کامیاب آپریشن پر پولیس ٹیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رحیم یار خان
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔