سیلاب متاثرین کی بحالی آپریشن شروع، ہر فرد کے نقصان کا ازالہ کیا جائے: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
لاہور ( نیوزڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں سیلاب متاثرین کے نقصان کے ازالے اور بحالی آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
اجلاس میں ڈسٹرکٹ اور تحصیل کی سطح پر فلڈ ریلیف کمیٹیاں قائم کرنے اور متاثرین کی امداد کے لیے آسان ترین طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت دی گئی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ متاثرین کے لیے سروے فارم، موبائل ایپ اور مانیٹرنگ ڈیش بورڈ بنایا جائے گا جس کی نگرانی وہ خود کریں گی۔
ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے 27 اضلاع اور 64 تحصیلوں کے 3775 موضع سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، سیلاب کے باعث 63 ہزار 200 پکے جبکہ 3 لاکھ 9 ہزار 684 کچے مکانات متاثر ہوئے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں سڑکوں، پلوں اور دیگر انفراسٹرکچر کی فوری بحالی کی جائے گی، سروے ٹیموں میں اربن یونٹ، ریونیو، زراعت اور آرمی کے نمائندے شامل ہوں گے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہدایت دی کہ سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے زیادہ سے زیادہ کیمپ اور پوائنٹس قائم کیے جائیں، حکومت متاثرین تک خود پہنچے، ہر فرد کے نقصان کا ازالہ کیا جائے اور کوئی بھی ریلیف سے محروم نہ رہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مریم نواز
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔