بھارت میں بیٹی کو بوجھ سمجھنے کی روایت ایک اور معصوم پر بھاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش کے ضلع شاہجہانپور میں زندہ دفن کی گئی 20 دن کی نومولود بچی کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں وہ نازک حالت میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔
یہ دلخراش واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک چرواہے نے بکریاں چَراتے ہوئے زمین کے نیچے سے رونے کی مدہم آواز سنی۔ قریب جانے پر اس نے مٹی میں سے ایک ننھا ہاتھ باہر نکلا دیکھا۔ اطلاع ملنے پر گاؤں والے اور پولیس پہنچی اور بچی کو مٹی سے نکالا۔
بچی کو سرکاری میڈیکل کالج اسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے آئی سی یو میں داخل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے نومولود بچی کو شاپر میں بند کر کے سڑک کنارے چھوڑ دیا گیا، ویڈیو وائرل
اسپتال کے پرنسپل ڈاکٹر راجیش کمار کے مطابق جب بچی کو لایا گیا تو وہ مٹی سے لتھڑی ہوئی تھی، اس کے منہ اور ناک میں مٹی بھری تھی اور سانس لینے میں دشواری تھی۔ جسم پر کیڑوں اور کسی جانور کے کاٹنے کے نشانات بھی تھے۔
ڈاکٹر کے مطابق ابتدا میں معمولی بہتری آئی، لیکن بعد ازاں بچی کی حالت بگڑ گئی اور انفیکشن ہو گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حالات تشویشناک ہیں، لیکن ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ بچی کی جان بچائی جا سکے۔
پولیس کے مطابق اب تک بچی کے والدین یا ملزمان کا سراغ نہیں مل سکا۔ بچی کو چائلڈ ہیلپ لائن کے حوالے بھی کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 20 لاوارث بچوں کا سہارا بننے والی ٹنڈو محمد خان کی مدر ٹریسا کون ہے؟
بھارت میں نومولود بچیوں کو زندہ دفن کرنے یا چھوڑ دینے کے واقعات کوئی نئے نہیں۔
ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ بیٹے کی خواہش اور بیٹی کو بوجھ سمجھنے کا رویہ ہے، جو ملک میں بگڑے ہوئے جنس کے تناسب (Gender Ratio) کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت نومولود دفن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت نومولود دفن کے مطابق بچی کو
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک