ساہیوال، پولیس مقابلہ، ایک ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار، دوسرا فرار، کانسٹیبل بھی زخمی
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
ساہیوال:
نواحی گاؤں 92 سکس آر روڈ پر پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مبینہ مقابلے کے دوران ایک ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا، جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، فائرنگ کے تبادلے میں پولیس کانسٹیبل زبیر بھی زخمی ہو گیا۔
پولیس کے مطابق دو موٹر سائیکل سوار ڈاکو ڈکیتی کی واردات کے بعد فرار ہو رہے تھے کہ ایس ایچ او تھانہ فرید ٹاؤن عامر فاروق نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اپنی ٹیم کے ہمراہ 92 سکس آر روڈ پر ناکہ بندی کی۔
جیسے ہی ڈاکو ناکہ بندی پر پہنچے انہوں نے پولیس پر فائرنگ کر دی۔ پولیس نے جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک ڈاکو زخمی ہو گیا جبکہ دوسرا موقع سے فرار ہو گیا۔ زخمی ڈاکو کی شناخت انیل عرف نیلو کے نام سے ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق زخمی ڈاکو اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے زخمی ہوا۔
واقعے میں زخمی ہونے والے کانسٹیبل زبیر کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔