پاک بھارت ٹیم کے درمیان مصافحہ کا تنازعہ، حارث رؤف کا بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
دبئی(سپورٹس ڈیسک) فاسٹ بولر حارث رؤف کا کہنا ہے کہ پاکستانی بیٹرز مشکل کنڈیشنز کا حل ڈھونڈنے لگے ہیں۔
دبئی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حارث رؤف کا کہنا تھا کہ یہاں کھیلنا آسان نہیں ہے، امید ہے کہ آنے والے میچز میں ٹاپ آرڈر کھلاڑی ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مصافحہ کے تنازع سے ہمارا کچھ لینا دینا نہیں، یہ بورڈ کا معاملہ ہے۔
واضح رہے کہ 14 ستمبر کو ہونے والے پاک بھارت میچ میں ٹاس کے دوران بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو نے پاکستانی کپتان سلمان آغا سے مصافحہ نہیں کیا تھا۔
میچ کے بعد بھی بھارتی ٹیم مصافحے کے لیے میدان میں نہ آئی اور ڈریسنگ روم کا دروازہ بند کرلیا تھا۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔