Islam Times:
2026-07-24@04:20:12 GMT

اسرائیل کیساتھ مذاکرات بے فائدہ ہیں، یمن

اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT

اسرائیل کیساتھ مذاکرات بے فائدہ ہیں، یمن

ایک مشترکہ بیان میں یمنی مظاہرین کا کہنا تھا کہ حالیہ صورتحال صیہونی رژیم کو اس حقیقت سے روشناس کرائے گی کہ اس کے پاس غزہ کی پٹی پر اپنی جارحیت روکنے اور اس علاقے کی ناکہ بندی ختم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ یمن میں ہزاروں افراد نے ملک بھر میں مظاہروں کا انعقاد کیا۔ جس میں شرکاء نے فلسطینی قوم کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے زور دے کر کہا کہ صیہونی رژیم کے ساتھ مذاکرات بے فائدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا مقابلہ صرف مقاومت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ تفصیلات کے مطابق، شمالی یمن کے صوبے صعدہ میں جمعہ کی نماز کے بعد مختلف شہروں اور علاقوں میں 40 وسیع مظاہرے منعقد کئے گئے۔ اس دوران مظاہرین نے سڑکوں پر اکٹھے ہو کر مسئلہ فلسطین اور غزہ کی پٹی کی حمایت کے حوالے سے اپنے مستقل موقف پر زور دیا۔

ریلیوں کے اختتام پر مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ صیہونی دشمن کا مقابلہ اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے کا راستہ, سب سے درست و دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی دوسرا راستہ بے قدر و قیمت ہے، جس سے صرف دشمن کی سرکشی میں اضافہ ہو گا۔ اس بیان میں، صیہونی رژیم کی جارحیت کی مذمت کے لئے قطر میں منعقدہ حالیہ عرب-اسلامی کانفرنس کا حوالہ دیا گیا۔ اس ضمن میں کہا گیا کہ دوحہ میں جنگ بندی کے لئے جاری مذاکرات کے بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ مذاکرات، نہ صرف قابض رژیم کو روکنے میں ناکام رہے بلکہ اس عمل سے دشمن کی توسیع پسندانہ حرص اور جارحیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مظاہرین نے بیان میں مطالبہ کیا کہ جہاد کے مقدس راستے کو جاری رکھا جائے اور غزہ میں ہونے والی مزاحمت کی حمایت کی جائے۔ اس دوران انہوں نے فلسطینی عوام کی ناقابل یقین استقامت کی تعریف کی کہ جس نے تمام مظالم کے باوجود صیہونی دشمن کو کسی بھی قابل ذکر فتح حاصل کرنے میں ناکامی سے دوچار کیا۔

بیان میں یمنی مسلح افواج کے بڑھتے ہوئے آپریشنز کی بھی تعریف کی گئی جو جدید ترین امریکی اور صیہونی ایئر ڈیفنس سسٹمز کو عبور کرتے ہوئے مقبوضہ سرزمین پر اپنے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ مظاہرین نے اپنے بیان کے آخر میں زور دیا کہ حالیہ صورت حال صیہونی رژیم کو اس حقیقت سے روشناس کرائے گی کہ اس کے پاس غزہ کی پٹی پر اپنی جارحیت روکنے اور اس علاقے کی ناکہ بندی ختم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ دوسری جانب یمنی مسلح افواج نے اس بات پر بار بار زور دیا کہ جب تک غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جارحیت جاری رہے گی اور اس علاقے کی ناکہ بندی ختم نہیں ہو گی، وہ مقبوضہ علاقوں اور صیہونی رژیم سے وابستہ بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر اپنے حملے جاری رکھیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صیہونی رژیم مظاہرین نے غزہ کی پٹی

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم