ویب ڈیسک : وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ ہم بجلی کی پیداوار، تجارت اور ترسیل کے ایک نئے دور آغاز کر رہے ہیں ۔  جدید ، شفاف اور مسابقتی بجلی  مارکیٹ سے ہر پاکستانی کو سستی ، قابلِ اعتماد اور پائیدار توانائی فراہم ہو سکے گی۔

ان خیالات کا اظہار وزیر توانائی اویس لغاری نے اسلام آباد میں ٹی بی ایم ایم ورکشاپ سے ورچوئل خطاب کے دوران کیا ، کہا کہ انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کو شروع سے ہی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہیں، جس میں پاور سسٹم بطور آپریٹر چلانا شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی مسابقتی مارکیٹ کا انتظام اور منصوبہ بندی بھی اس کی ذمہ داری ہے ۔

 یکم ربیع الثانی 1447 ہجری کا آغاز 24 ستمبر کو متوقع

اویس لغاری نے کہاکہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے بغیر صارفین پر بوجھ پڑتا رہے گا ۔ انہوں نے کہاکہ جدت اور شفافیت کیلئے مسابقتی توانائی مارکیٹ قائم کر رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں آٹھ سو میگاواٹ بجلی بڑے صارفین کو نیلام کریں گے۔

انہوں نے مزید کہاکہ سی ٹی بی سی ایم کوئی تجربہ نہیں بلکہ برسوں سے تیار کردہ اصلاحاتی منصوبہ ہے۔ صنعی صارفین براہِ راست سپلائر سے مسابقتی نرخوں پر بجلی خرید سکیں گے اس صنعتوں کے اخراجات کم ہوں گے ۔ قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو نظام میں شامل کرنے سے بھی سہولت ملے گی۔

Currency Exchange Rate Friday September  19, 2025

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: اویس لغاری

پڑھیں:

واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔

، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔

دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان