ہم بجلی کی پیداوار، تجارت اور ترسیل کے ایک نئے دور آغاز کر رہے ہیں؛ اویس لغاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
ویب ڈیسک : وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ ہم بجلی کی پیداوار، تجارت اور ترسیل کے ایک نئے دور آغاز کر رہے ہیں ۔ جدید ، شفاف اور مسابقتی بجلی مارکیٹ سے ہر پاکستانی کو سستی ، قابلِ اعتماد اور پائیدار توانائی فراہم ہو سکے گی۔
ان خیالات کا اظہار وزیر توانائی اویس لغاری نے اسلام آباد میں ٹی بی ایم ایم ورکشاپ سے ورچوئل خطاب کے دوران کیا ، کہا کہ انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کو شروع سے ہی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہیں، جس میں پاور سسٹم بطور آپریٹر چلانا شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی مسابقتی مارکیٹ کا انتظام اور منصوبہ بندی بھی اس کی ذمہ داری ہے ۔
یکم ربیع الثانی 1447 ہجری کا آغاز 24 ستمبر کو متوقع
اویس لغاری نے کہاکہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے بغیر صارفین پر بوجھ پڑتا رہے گا ۔ انہوں نے کہاکہ جدت اور شفافیت کیلئے مسابقتی توانائی مارکیٹ قائم کر رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں آٹھ سو میگاواٹ بجلی بڑے صارفین کو نیلام کریں گے۔
انہوں نے مزید کہاکہ سی ٹی بی سی ایم کوئی تجربہ نہیں بلکہ برسوں سے تیار کردہ اصلاحاتی منصوبہ ہے۔ صنعی صارفین براہِ راست سپلائر سے مسابقتی نرخوں پر بجلی خرید سکیں گے اس صنعتوں کے اخراجات کم ہوں گے ۔ قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو نظام میں شامل کرنے سے بھی سہولت ملے گی۔
Currency Exchange Rate Friday September 19, 2025
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اویس لغاری
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔