نئے گیس کنکشن کی پالیسی گائیڈ لائن جاری، صارفین آن لائن درخواست دے سکیں گے
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
نئے گیس کنکشن کی پالیسی گائیڈ لائن جاری، صارفین آن لائن درخواست دے سکیں گے WhatsAppFacebookTwitter 0 19 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) نئے گیس کنکشن کی پالیسی گائیڈ لائن سامنے آگئی، صارفین آن لائن درخواست دے سکیں گے۔ جن درخواست گزاروں نے ڈیمانڈ نوٹ کی ادائیگی کر رکھی ہے و ہ نئی پالیسی میں شامل ہوں گے۔
وزیرپیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت آرایل این جی گھریلو گیس کنکشن فراہمی سے متعلق اجلاس میں گھریلو صارفین کو آر ایل این جی کنکشن فراہم کرنے کے جامع روڈ میپ کا جائزہ لیا گیا۔
ایم ڈی سوئی کمپنیز نے بتایا کہ پہلے سال میں نئے آر ایل این جی کنکشن فراہم کرنے کا بڑا ہدف مقرر کیا جائے گا، علی پرویز ملک نے ہدایت کی عوام کی سہولت یقینی بنانے کے لیے مضبوط اور صارف دوست میکنزم تشکیل دیں۔ ایل پی جی کے مقابلے میں آرایل این جی تقریباً 30 فیصدسستی، گھریلو استعمال کیلئے محفوظ ایندھن ہے۔
اپلائی کرنے کا طریقہ کار
اعلامیے کے مطابق صارفین سوئی کمپنیز کی ویب سائٹس،موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے آن لائن درخواست دے سکیں گے، درخواستیں سوئی کمپنیوں کےمقامی دفاتر میں بھی جمع کروائی جا سکیں گی، علی پرویز ملک کی دونوں سوئی کمپنیوں میں پراجیکٹ مینجمنٹ آفس قائم کرنے کی ہدایت کردی۔
پراجیکٹ مینجمنٹ آفس درخواست سے لیکر کنکشن تک کے مکمل عمل کی نگرانی کے ذمہ دارہوں گے، وزیرپیٹرولیم علی پرویز ملک نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی عوام کی کسی بھی شکایت کا فوری طور پر تدارک کیا جائے، منصوبہ عوام کیلئے قابل رسائی،سستی توانائی فراہم کرنے کی حکومتی کوششوں میں اہم سنگ میل ہے۔
درخواست جمع کروانے والے صارفین کو بڑا ریلیف
ماضی میں قدرتی گیس کنکشن کی درخواست جمع کروانے والے صارفین کو بڑا ریلیف مل گیا، جن درخواست دہندگان نے ڈیمانڈ نوٹ کی ادائیگی کر رکھی ہے و ہ نئی پالیسی میں شامل ہوں گے۔ نئی پالیسی کے تحت سیکیورٹی فیس اور باقی رقم جمع کروا کر آر ایل این جی کنکشن کیلئےاہل ہو جائیں گے۔
گیس کنکشن پر عائد پابندی ختم
واضح رہے کہ حکومت نے 3 سال بعد گھر یلوصارفین کے گیس کنکشن پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گیس کنکنشن پرعائد پابندی ختم کرنے کے لیے سفارشات تیارکرلی گئی ہیں۔ایل این جی ٹیرف کی بنیاد پر صارفین کو گھریلو کنکشن فراہم کیا جائے گا۔
آئندہ مالی سال کے دوران گھریلو کنکشن لگانے کا عمل شروع کیا جا سکے گا۔معمول کے ڈیمانڈ نوٹس کی فیس 18 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ ارجنٹ پالیسی کے مطابق 80 ہزار روپے فیس وصول کرنے کی تجاویز تیار کی گئی ہیں۔
درآمدی ایل این جی کا گھریلو کنکشز 5سے 10 مرلے تک کے گھر کیلئے 40ہزار میں پڑے گا۔ 20 ہزار ڈیمانڈ نوٹس 20ہزار سیکیورٹی فیس جبکہ 10 مرلے سے زائد کے گھر رکھنے والے صارفین کو ڈیمانڈ نوٹس کے 23ہزار اور سیکیورٹی فیس کے 20 ہزار روپے دینا ہوں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرلندن کا تاریخی فنڈ ریزنگ شو: فلسطین کیلئے 2 ملین ڈالر جمع جی ایچ کیو حملہ کیس: ویڈیو لنک سماعت چیلنج، عمران کو پیش کرنے کیلئے درخواست دائر جسٹس طارق جہانگیری کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے میں اہم پیش رفت وزیراعظم کی جنیوا میں نواز شریف سے ملاقات، پاک-سعودیہ دفاعی معاہدے سے آگاہ کیا خوارج کی جانب سے مساجد کو فتنہ انگیزی کےلئے استعمال کرنے کا ہولناک انکشاف سعودی عرب کیساتھ معاہدے میں کسی اور ملک کی شمولیت کا دروازہ بند نہیں کیا: وزیر دفاع غزہ میں غیر مشروط جنگ بندی ہونی چاہیے، آزاد فلسطینی ریاست کیلئےکوششیں جاری رہیں گی: پاکستانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ا ن لائن درخواست دے سکیں گے علی پرویز ملک گیس کنکشن کی کنکشن فراہم ایل این جی صارفین کو کرنے کا کرنے کی
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔