لاہور: پولیس اہلکاروں کی جانب سے شہری کے اغوا کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
لاہور:
پولیس یونیفارم میں ملبوس ملزمان کا شہری کو اغواء کرکے لاکھوں روپے تاوان وصول کرنے کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا۔
ہربنس پورہ کے علاقے میں چار پولیس اہلکاروں نے تلاشی کے بہانے روک کر شہری ندیم کو اغواء کیا اور منہ پر رومال ڈال کر ایک گھر لے گئے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے مغوی شہری کے اہلخانہ سے دس کروڑ کی ڈیمانڈ کی۔ ملزمان نے شہری کی گاڑی میں موجود 15 لاکھ چھینے اور اسکے دوست علی رضا سے فون کرکے 25 لاکھ روپے منگوائے۔
ملزمان نے شہری کی دو تولے کی چین بھی اتروائی اور اسے رنگ روڈ کے قریب چھوڑ کر فرار ہوگئے، پولیس نے شہری کے بیان پر اغواء کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔
ایس ایچ او ہربنس پورہ محمد عمران خان کے مطابق دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ جلد ہی باقی ملزمان کو ٹریس کرکے گرفتار کرلیا جائے گا، گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔