سگریٹ کی غیرقانونی تجارت کی روک تھام کے لیے ریٹیل اور ڈسٹری بیوشن کی سطح پر کارروائی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
فلپ مورس (پاکستان) لمیٹڈ (PMPKL) نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کی معیشت اور قانونی کاروبار کو نقصان پہنچانے والی غیر قانونی سگریٹوں کی بڑھتی ہوئی تجارت پر قابو پانے کے لیے ریٹیل اور ڈسٹری بیوشن سطح پر ہدفی کارروائیاں کی جائیں
صحافیوں کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے فلپ مورس (پاکستان) لمیٹڈ کے ڈائریکٹر ایکسٹرنل افیئرز، خُرم قمر نے کہا کہ پاکستان کی سگریٹ مارکیٹ کا 57 فیصد سے زیادہ اب غیر قانونی سگریٹوں پر مشتمل ہے، جس سے قانون پر عمل کرنے والے مینوفیکچررز کے لیے غیر مسابقتی ماحول پیدا ہو رہا ہے اور انڈسٹری کی شفافیت متاثر ہو رہی ہے۔
خُرم قمر نے اس بات پر زور دیا کہ سگریٹ کی غیرقانونی تجارت کی روک تھام کے لیے حکام کی کارروائیوں کو دیرپا بنانے کی ضرورت ہے۔ وسیع ہوئے علاقوں میں الگ الگ چھاپے مارنے سے غیر قانونی صنعت کار متاثر نہیں ہوتے اس کے برعکس مخصوص علاقوں اور ریٹیلرز کو ہدف بنایا جائے تو دیرپا نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس انداز کی کارروائی سے ان علاقوں سے غیر قانونی سگریٹ کی تجارت کا خاتمہ ممکن ہے جس کا اثر نہ صرف ان ریٹیلرز پر ہوگا جو غیر قانونی سگریٹ فروخت کرتے ہیں بلکہ مینوفیکچررز بھی زد میں آئیں گے۔
خُرم قمر نے کہا کہ چھاپوں میں شدت لانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک بھر کے ریٹیلرز کو یہ احساس ہو کہ غیر قانونی سگریٹ بیچنے کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ”غیر قانونی سگریٹوں کی فروخت ایک معمول بن چکی ہے جہاں ریٹیلرز بلا جھجک ایسے سگریٹ رکھتے ہیں جن پر گرافیکل ہیلتھ وارننگ یا ٹریک اینڈ ٹریس اسٹامپس نہیں ہوتے، معیشت اور دستاویزی کاروبار کو فروغ دینے کے لیے اس مجرمانہ فعل اور خلاف ورزی کی عام روایت کو ختم کرنا ہوگا۔”
انہوں نے کہا ”یہ صرف فلپ مورس پاکستان لمیٹڈ کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی معیشت کا چیلنج ہے کیونکہ غیر قانونی تجارت معیشت کو سالانہ 310 ارب روپے (تقریباً ایک ارب ڈالر) کا نقصان پہنچا رہی ہے۔ یہ خطیر رقم انسانی ترقی کے منصوبوں پر خرچ کی جا سکتی ہے مگر اس کا فائدہ ٹیکس گزاروں کے بجائے غیرقانونی تجارت کرنے والوں کو پہنچ رہا ہے جو کم از کم قیمت سے بھی کم پر سگریٹ بیچتے ہیں اور ہیلتھ وارننگ کو نظر انداز کرکے صحت عامہ کے لیے بھی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان مشکلات کے باوجودفلپ مورس پاکستان لمیٹڈ، پاکستان کی باضابطہ معیشت میں ایک بڑا حصہ ڈال رہا ہے۔ ملک میں کام کرنے والی 52 تمباکو کمپنیوں میں سے صرف دو قانونی کمپنیاں، جن فلپ مورس بھی شامل ہے یہ دونوں کمپنیاں تمباکو سے حاصل ہونے والے ٹیکسوں میں تقریباً 98 فیصد جمع کراتی ہیں۔
خُرم قمر نے حکومت کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا خیرمقدم کیا لیکن اس پر زور دیا کہ اس کا مؤثر اور مکمل نفاذ اب بھی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلپ مورس پاکستان کے ایل ان اولین کمپنیوں میں شامل ہے جس نے اپنے تمام آپریشنز میں ٹریک اینڈ ٹریس کو مکمل طور پر نصب اور نافذ کیا، لیکن تمباکو کمپنیوں پر وسیع پیمانے پر اس پر عملدرآمد تاحال کمزور ہے۔ پی ایم پی کے ایل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ حکومت اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر غیر قانونی تجارت کے خلاف کام کرے گی۔
خرم قمر نے کہا کہ صرف مضبوط اور مسلسل کارروائی ہی غیر قانونی ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز کے خلاف مارکیٹ کا توازن بحال کر سکتی ہے، کھوئے ہوئے اربوں روپے کے محصولات کو بچا سکتی ہے اور پاکستان کے معاشی مستقبل کو مضبوط بنا سکتی ہے۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: غیر قانونی سگریٹ نے کہا کہ انہوں نے فلپ مورس سکتی ہے کے لیے
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔