صنعتی پیداوار میں اضافہ اور گندم کی قلت
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
جولائی 2025 کا مہینہ مزدوروں کے لیے امید کا پیغام لے کر آیا تھا۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق بڑی صنعتوں کی پیداوار جون 2025 کے مقابلے میں جولائی 2025 میں 2.6 فی صد بڑھ گئی ہے۔
یہ سب کچھ اس قوم کے پسے ہوئے طبقے کے لیے سانس لینے کا موقعہ تھا۔ وہ مزدور جو کافی عرصے سے بے روزگار پڑے تھے، مل مالک نے آواز دی وہ دوڑا دوڑا چلا آیا، وہ دوبارہ فیکٹری کی راہداریوں میں قدم رکھ رہے تھے۔
رپورٹ بتاتی ہے کہ گارمنٹس کی پیداوار میں 3.
بھارت کی آبی جارحیت نے جنوبی پنجاب اور سندھ کے کئی اضلاع ڈبو دیے ہیں۔ کپاس کی فصل کا بہت بڑا حصہ تباہ ہو گیا ہے۔ جہاں سفید پھولوں کی لہلہاتی کھیتیاں تھیں، وہاں اب کیچڑ یا پانی کھڑا ہے۔ یہ وہ کپاس ہے جو ہماری گارمنٹس انڈسٹری کو سہارا فراہم کرتی تھی۔ لاکھوں مکانات اب جزوی یا کلی نقصان کے دائرے میں آگئے ہیں، بھارتی آبی جارحیت نے صرف فصلیں نہیں برباد کیں بلکہ کسان کو اجاڑا ہے۔
کارخانے کے مزدور کی زندگی کو بھی ڈبو دیا ہے ۔ یہ صرف مکانات نہیں گراتا رہا بلکہ بچوں کے مستقبل کی چھت بھی اکھاڑتا چلا جا رہا ہے۔ اور بھارت ہے کہ باز نہیں آ رہا ہے۔ چند دن قبل ایک اور بہت بڑا ریلا دریائے ستلج میں چھوڑ دیا گیا ۔ ابھی جلال پور، علی پور والے ایک وار برداشت کر رہے تھے کہ دوبارہ سیلاب اپنی اونچی سے اونچی حدیں خود ہی پھلانگتا چلا آیا۔ بھارت ساری کارروائی کا بیشتر حصہ بغیر اطلاع انجام دیتا رہا۔
ہمارے ملک کے کسان ہی نہیں بلکہ مزدور، کاریگر بھی سیلاب سے شدید متاثر ہوئے۔ جولائی کے مہینے میں فرنیچر کا کاروبار ترقی کی جانب سفر پر جا رہا تھا۔ رپورٹ بتا رہی ہے فرنیچر کی پیداوار میں ترقی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ جولائی میں جون کے مقابلے میں ایک فی صد کا اضافہ ہوا تھا کہ اگست اور ستمبر میں بارشوں نے آ لیا۔
دریا بپھر گئے ان لہروں میں سفاکیت بھارتی آبی جارحیت نے پیدا کر دی تھی۔ وہ کاریگر جس کے ہاتھ لکڑی کے تختے پر دوڑ رہے تھے وہ جولائی میں سوچ رہا ہوگا کہ اب خوب روزگار ملے گا، بچوں کے اسکول کی فیس بھر دی جائے گی، جوتے بھی دلاؤں گا، سردیاں آنے والی ہیں بیوی کے لیے گرم چادر خرید لوں گا، مگر یہ کیا سیلاب آگیا؟ وہ بھاگا بھاگا گاؤں آتا ہے، دیواریں گر گئیں، چادریں بہہ گئیں، کپڑے سب پانی برد ہو گئے، برتن تیرتے ہوئے چلے جا رہے تھے، کاریگر جس کے ہاتھ میں اوزار تھے اب وہ کچی دیواروں کو سہارا دے رہے تھے، جو دیوار بچی تھی وہ سہمی کھڑی، لڑکھڑا رہی تھی۔
خبریں آ رہی تھیں کہ بچے دیوار گرنے سے ہلاک ہو گئے۔ فرنیچر کی پیداوار میں اضافہ جس نے اس کے ذہن کی روشنی بڑھا دی تھی، اب وہاں اندھیرا چھا گیا تھا۔ یہ اندھیرا عارضی نہیں تھا، جو رات گزرنے پر ختم ہو جائے۔ یہ مایوسی کا اندھیرا تھا، کچھ ماہرین کہتے ہیں یہ وقت ہے، لیکن کاریگر جانتا ہے کہ جولائی میں روزگار کی جھلک ملی تھی لیکن بھارت کے بار بار کے آبی جارحیت کے سیلابوں نے واپس اندھیرے میں ڈال دیا ہے۔ جس سے نکلنے کے لیے عارضی وقتی پلان نہیں بلکہ ایک طویل المیعاد پلان کی ضرورت ہوگئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کارخانوں میں کام بند ہو جائے تو مزدور کا دل ہی نہیں بیٹھتا بلکہ معیشت بھی بیٹھ جاتی ہے اور ایسی معیشت جس کا انحصار زراعت پر ہو تو اسے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لیے ایک طویل مدت درکار ہوگی۔
حالیہ بجٹ یہ دہائی دے رہا تھا کہ ملک کے 25 لاکھ کارآمد نوجوان ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ ادھر سے سیلاب نے مزید لاکھوں افراد کو بے روزگار کر دیا۔
ادھر یہ خبر بھی آگئی کہ پاکستان کی ایک کمپنی کروڑوں ڈالر کا حلال گوشت برآمد کرے گی۔ ملک کی گلیوں سے جب پانی اترے گا تو ہر باڑے خالی ملیں گے کیونکہ سیلابی پانی سب کچھ بہا کر لے گیا۔ جو مویشی بچ گئے ہیں وہ بیمار ہیں، شہری یہ خبر سن رہے تھے کہ اچانک معلوم ہوا کہ بڑی مالیت میں ان دنوں جب ہر طرف خال خال ہی حلال جانور نظر آ رہے تھے، اب خالی ہو چکے ہیں۔ شہری سوچتا ہے کہ برآمدی آرڈر مل گیا ہے تو گوشت کے دام یکدم چڑھ جائیں گے۔ کسان سوچتا ہے کہ پہلے تو اپنے ہی بکرے ذبح کر لیتا تھا، اب گوشت کی دکان سے مہنگا گوشت کیسے خریدوں گا؟
مارکیٹ میں اب گندم مہنگی سے مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ آٹا مہنگا ہو کر غریب کی دسترس سے باہر ہو چکا ہے۔ مارکیٹ میں شور تھا کہ گندم غائب ہوگئی ہے۔ اخباروں میں سرخیاں لگ رہی تھیں کہ ملک میں گندم کی قلت پیدا ہو گئی، قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ خبر حاوی ہوتی چلی جا رہی تھی۔ شاید یہ خبر کہیں دب گئی ہوگی۔ کیونکہ قلت کے ساتھ آگے جاکر یہ خبر بھی شایع ہو کر رہ گئی کہ ایک بڑے گودام سے 2 لاکھ ٹن گندم برآمد ہوئی ہے۔
کسی ذخیرہ اندوز نے قیمت بڑھنے کے انتظار میں چھپا کر رکھی تھی، یہاں پر بھی دولت مند طاقتور بھاری پڑ چکا تھا۔ ذخیرہ اندوزی کرنے والے نے دام بڑھنے کی امید پر 2 لاکھ ٹن اناج کے پہاڑ قید کرکے بیٹھا تھا۔ لوگوں کی بھوک کو قید کر لیا گیا تھا۔ گندم کی بوریوں کو چھپا کر خالی پیٹ غریب مزدور، کسان، بچوں، عورتوں، بوڑھوں کی مجبوری ، بے بسی کا کس طرح سے مذاق اڑایا گیا تھا۔ سیلاب سے زیادہ ہولناک کہانی یہاں پر دہرائی جا رہی تھی۔ طاقتوروں، اشرافیہ کے گودام بھرے ہوئے تھے، تجوریوں میں تالا لگا ہوا تھا اور غریبوں کے پیٹ خالی تھے۔
بھوک سے بے حال ہو رہے تھے، آٹا مہنگا ہوتا چلا جا رہا تھا، فی الحال بتایا یہ گیا ہے کہ گندم سرکاری تحویل میں لے لی گئی ہے۔ صوبائی حکومت فوری طور پر حقائق سامنے لائے کہ کہیں کچھ اورکہانی نہ بن جائے۔ ایسے افراد کو ان دنوں جب ملک پر قحط کا سماں ہے اور مزید اضافے کی توقع ہے اس بات کا سختی سے نوٹس لیں کہ یہ ذخیرہ اندوزی وہ بھی گندم جیسی اہم ترین اناج کی یہ بہت بڑا جرم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی پیداوار میں آبی جارحیت اضافہ ہو رہے تھے رہا تھا رہی تھی گیا ہے کے لیے گئی ہے جا رہا تھا کہ یہ خبر
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔