اداکارہ دیشا پٹانی کے گھر کے باہر فائرنگ کے واقعے کی ویڈیو منظرعام پر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
بالی ووڈ کی اداکارہ دیشا پٹانی کے گھر پر فائرنگ کی سی سی ٹی وی ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے۔
گزشتہ دنوں اداکارہ دیشا پٹانی کے گھر کے باہر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آچکی ہے۔ یہ واقعہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب تقریباً 3:30 بجے پیش آیا، جب دو نامعلوم موٹر سائیکل سوار افراد نے دیشا پٹانی کے بریلی میں واقع گھر کے باہر اندھا دھند فائرنگ کی۔
سی سی ٹی وی ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ دو حملہ آور موٹر سائیکل پر آتے ہیں، ان میں سے ایک شخص اداکارہ کے گھر کے باہر کئی گولیاں چلاتا ہے، جس کے بعد دونوں حملہ آور موقع سے فرار ہوجاتے ہیں۔ یہ ویڈیو نہ صرف بھارتی میڈیا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس پر اداکارہ کی مداحوں کی جانب سے مذمت کی جارہی ہے۔
یاد رہے کہ واقعے کے بعد بدنام زمانہ گینگسٹرز روہت گودارا اور گولڈی برار گینگ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فائرنگ کی مبینہ وجہ دیشا پٹانی کی بہن خوشبو پٹانی کی جانب سے گینگ کے روحانی پیشواؤں، پریمانند مہاراج اور انیرودھاچاریہ مہاراج کے بارے میں مبینہ طور پر توہین آمیز بیان تھا۔ پولیس اس واقعے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: دیشا پٹانی کے گھر کے باہر کے گھر
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔