Daily Mumtaz:
2026-06-03@05:39:13 GMT

60 سال نظروں سے اوجھل رہا زمین کا نیا چاند دریافت

اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT

60 سال نظروں سے اوجھل رہا زمین کا نیا چاند دریافت

زمین کے گرد گردش کرنے والے ایک نئے چاند (Quasi-Moon) کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، جسے سائنس دانوں نے 2025 PN7 کا نام دیا ہے۔ حیران کن طور پر یہ چھوٹا سیارچہ گزشتہ 60 سالوں سے زمین کے قریب مدار میں گردش کر رہا تھا، مگر اس کی کم روشنی اور ناقص مشاہداتی زاویوں کے باعث یہ طویل عرصے تک سائنس دانوں کی نظروں سے اوجھل رہا۔

یہ انکشاف اسپین کی کمپلوتینسے یونیورسٹی آف میڈرڈ سے تعلق رکھنے والے ماہرِ فلکیات کارلوس ڈی لا فوئنٹے مارکوس کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق میں سامنے آیا ہے، جسے 2 ستمبر 2025 کو ریسرچ نوٹس آف دی امریکن ایسٹرونومیکل سوسائٹی (AAS) میں شائع کیا گیا ہے۔

قریبی چاند وہ فلکی اجسام ہوتے ہیں جو زمین کے گرد براہِ راست گردش نہیں کرتے، بلکہ وہ سورج کے گرد ایسا مدار اختیار کرتے ہیں جو زمین کے مدار سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ اس ہم آہنگی کی وجہ سے وہ ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے زمین کے ساتھ ساتھ حرکت کر رہے ہوں، مگر درحقیقت وہ زمین کے مستقل قدرتی چاند نہیں کہلاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق مذکورہ نیا چاند زمین کے سات معلوم قریبی چاندوں میں سے سب سے چھوٹا اور سب سے غیر مستحکم ہے۔ اس کا قطر تقریباً 62 فٹ (19 میٹر) ہے، جو اسے فلکیاتی لحاظ سے ایک نہایت مختصر جسم بناتا ہے۔ اگرچہ یہ سیارچہ روشنی میں انتہائی مدھم ہے، لیکن اعلیٰ معیار کی دوربین کے ذریعے اسے دیکھنا ممکن ہے۔

یہ چاند سورج کے گرد زمین جیسا ہی مدار اختیار کرتا ہے، اور زمین سے اس کا فاصلہ 28 لاکھ میل سے لے کر 3.

7 کروڑ میل تک رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، یہ سیارچہ آئندہ 60 سالوں تک زمین کے ساتھ اپنی ہم آہنگ حرکت برقرار رکھے گا، جس کے بعد ممکن ہے کہ کششِ ثقل کے باعث اس کا مدار تبدیل ہو جائے۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ کارلوس ڈی لا فوئنٹے مارکوس نے بتایا ہے کہ، ”یہ سیارچہ چھوٹا، کمزور اور زمین سے مشاہدے کے لیے غیر موزوں زاویے پر موجود ہے، اس لیے یہ تعجب کی بات نہیں کہ یہ اتنے برسوں تک ہماری نظروں سے پوشیدہ رہا۔“

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قریبی چاند کا ذکر سب سے پہلے فرانسیسی صحافی ایڈرین کوفینیٹ نے کیا تھا، جنہوں نے 30 اگست 2025 کو مائنر پلینٹ میلنگ لسٹ (Minor Planet Mailing List) پر اس کی مدار کی تفصیلات شائع کی تھیں۔ ان کے مطابق، ”پی این سیون 2025 بظاہر آئندہ 60 سالوں تک زمین کا کوآزی سیٹلائٹ رہے گا۔“

یہ دریافت نہ صرف فلکیاتی تحقیق میں ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ہماری زمین کے گرد اب بھی ایسے کئی اجرامِ فلکی موجود ہو سکتے ہیں جو جدید ترین آلات کے باوجود ہماری نظروں سے اوجھل ہیں۔

Post Views: 5

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: زمین کے کے گرد

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر