60 سال نظروں سے اوجھل رہا زمین کا نیا چاند دریافت
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
زمین کے گرد گردش کرنے والے ایک نئے چاند (Quasi-Moon) کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، جسے سائنس دانوں نے 2025 PN7 کا نام دیا ہے۔ حیران کن طور پر یہ چھوٹا سیارچہ گزشتہ 60 سالوں سے زمین کے قریب مدار میں گردش کر رہا تھا، مگر اس کی کم روشنی اور ناقص مشاہداتی زاویوں کے باعث یہ طویل عرصے تک سائنس دانوں کی نظروں سے اوجھل رہا۔
یہ انکشاف اسپین کی کمپلوتینسے یونیورسٹی آف میڈرڈ سے تعلق رکھنے والے ماہرِ فلکیات کارلوس ڈی لا فوئنٹے مارکوس کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق میں سامنے آیا ہے، جسے 2 ستمبر 2025 کو ریسرچ نوٹس آف دی امریکن ایسٹرونومیکل سوسائٹی (AAS) میں شائع کیا گیا ہے۔
قریبی چاند وہ فلکی اجسام ہوتے ہیں جو زمین کے گرد براہِ راست گردش نہیں کرتے، بلکہ وہ سورج کے گرد ایسا مدار اختیار کرتے ہیں جو زمین کے مدار سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ اس ہم آہنگی کی وجہ سے وہ ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے زمین کے ساتھ ساتھ حرکت کر رہے ہوں، مگر درحقیقت وہ زمین کے مستقل قدرتی چاند نہیں کہلاتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق مذکورہ نیا چاند زمین کے سات معلوم قریبی چاندوں میں سے سب سے چھوٹا اور سب سے غیر مستحکم ہے۔ اس کا قطر تقریباً 62 فٹ (19 میٹر) ہے، جو اسے فلکیاتی لحاظ سے ایک نہایت مختصر جسم بناتا ہے۔ اگرچہ یہ سیارچہ روشنی میں انتہائی مدھم ہے، لیکن اعلیٰ معیار کی دوربین کے ذریعے اسے دیکھنا ممکن ہے۔
یہ چاند سورج کے گرد زمین جیسا ہی مدار اختیار کرتا ہے، اور زمین سے اس کا فاصلہ 28 لاکھ میل سے لے کر 3.
ماہرین کے مطابق، یہ سیارچہ آئندہ 60 سالوں تک زمین کے ساتھ اپنی ہم آہنگ حرکت برقرار رکھے گا، جس کے بعد ممکن ہے کہ کششِ ثقل کے باعث اس کا مدار تبدیل ہو جائے۔
تحقیقی ٹیم کے سربراہ کارلوس ڈی لا فوئنٹے مارکوس نے بتایا ہے کہ، ”یہ سیارچہ چھوٹا، کمزور اور زمین سے مشاہدے کے لیے غیر موزوں زاویے پر موجود ہے، اس لیے یہ تعجب کی بات نہیں کہ یہ اتنے برسوں تک ہماری نظروں سے پوشیدہ رہا۔“
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قریبی چاند کا ذکر سب سے پہلے فرانسیسی صحافی ایڈرین کوفینیٹ نے کیا تھا، جنہوں نے 30 اگست 2025 کو مائنر پلینٹ میلنگ لسٹ (Minor Planet Mailing List) پر اس کی مدار کی تفصیلات شائع کی تھیں۔ ان کے مطابق، ”پی این سیون 2025 بظاہر آئندہ 60 سالوں تک زمین کا کوآزی سیٹلائٹ رہے گا۔“
یہ دریافت نہ صرف فلکیاتی تحقیق میں ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ہماری زمین کے گرد اب بھی ایسے کئی اجرامِ فلکی موجود ہو سکتے ہیں جو جدید ترین آلات کے باوجود ہماری نظروں سے اوجھل ہیں۔
Post Views: 5
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم