Nawaiwaqt:
2026-07-24@15:29:48 GMT

بھارت سے میچ سے قبل شاہینوں کی اہم بیٹھک

اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT

بھارت سے میچ سے قبل شاہینوں کی اہم بیٹھک

پاکستان کرکٹ ٹیم نے آل راؤنڈر سلمان علی آغا کی قیادت میں ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے کے لیے کامیابی سے کوالیفائی کر لیا ہے اور اب گرین شرٹس کی نظریں اتوار کو روایتی حریف بھارت کے خلاف ہونے والے پہلے اور نہایت اہم میچ پر مرکوز ہیں۔ ٹیم انتظامیہ اور کھلاڑی اس معرکے کو ایونٹ کا سب سے بڑا امتحان قرار دے رہے ہیں، جہاں بہتر حکمتِ عملی اور دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔ جمعے کو دبئی میں آئی سی سی اکیڈمی میں شیڈول پریکٹس سیشن سے قبل ٹیم ہوٹل میں ایک اہم میٹنگ ہوئی جس میں مینجمنٹ اور کھلاڑیوں نے کھل کر تبادلۂ خیال کیا۔ اس سیشن کے دوران بیٹنگ لائن کے کئی کھلاڑیوں نے حالیہ ناکامیوں کا برملا اعتراف کیا اور ٹیم مینجمنٹ کے اعتماد اور مسلسل حوصلہ افزائی پر شکریہ ادا کیا۔ کوچ مائیک ہیسن نے گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ سپر فور مرحلے میں اسٹرائیک کو مسلسل روٹیٹ کرنا کامیابی کی کنجی ثابت ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کنڈیشنز بیٹرز کے لیے آسان ہرگز نہیں ہیں، اس لیے سنگلز اور ڈبلز کے ذریعے اسکور بورڈ کو متحرک رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ ایک سینئر کھلاڑی نے میٹنگ میں کہا کہ اس وقت ٹیم کو بڑی اننگز کی اشد ضرورت ہے تاکہ حریف ٹیموں پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آنے والے مقابلوں میں وکٹ پر ٹھہرنے اور ذمہ دارانہ کھیل کے ساتھ اسٹرائیک کو تیز کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ کوچ مائیک ہیسن نے کھلاڑیوں سے سپر فور میں بہترین کھیل پیش کرنے کی توقع ظاہر کی اور کہا کہ اگر ہر کھلاڑی اپنی ذمہ داری نبھائے تو فتح پاکستان کے قدم چوم سکتی ہے۔ پاکستانی شائقین بھی اس روایتی ٹاکرے کے لیے بے چینی سے منتظر ہیں اور ٹیم کی سپر فور میں شاندار کارکردگی کی امید کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے خلاف کامیابی نہ صرف پوائنٹس ٹیبل پر برتری دلوائے گی بلکہ ٹیم کا اعتماد بھی بلند کرے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سپر فور

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان
  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان