یحییٰ السنوار قبر سے اپنے خواب پورے ہوتے دیکھ رہے ہیں، صیہونی تجزیہ کار
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
بین ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ عالم اسلام اور دنیا کے بیشتر ممالک اسرائیل کے خلاف متحد ہیں، اسرائیل ایک الگ تھلگ اور مسترد شدہ ملک بن چکا ہے، اور دنیا کے 140 سے زیادہ ممالک اب فلسطین کی ریاست کے قیام کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی ٹی وی چینل 13 کے کالم نگار اور عسکری ماہر ایلون بین ڈیوڈ نے معاریو اخبار کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں کہا ہے کہ شہید یحییٰ السنوار اپنی شہادت کے بعد اپنے خواب کی تکمیل کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ مقاومتی ذرائع کے مطابق انھوں نے لکھا کہ کس کو یقین ہو گا کہ عبرانی سال 5786 کے موقع پر، عظیم حملے کے آغاز کے دو سال بعد، یحییٰ السنوار اپنی قبر میں آرام کر سکیں گے اور اپنے خواب کی تکمیل کا مشاہدہ کر سکیں گے؟۔ بین ڈیوڈ نے لکھا ہے کہ اس وقت نہ صرف عرب دنیا، بلکہ عالم اسلام اور دنیا کے بیشتر ممالک اسرائیل کے خلاف متحد ہیں، اسرائیل ایک الگ تھلگ اور مسترد شدہ ملک بن چکا ہے، اور دنیا کے 140 سے زیادہ ممالک اب فلسطین کی ریاست کے قیام کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور دنیا کے رہے ہیں
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔