غزہ پر قیامت: اسرائیلی حملوں میں ایک دن میں 87 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی اور دیگر علاقوں پر شدید حملے جاری رکھے، جن میں 87 فلسطینی شہید ہوگئے، جن میں سے 70 افراد صرف غزہ سٹی میں مارے گئے۔
فلسطینی سول ڈیفنس کے مطابق، الــصبرہ محلے میں دغموش خاندان کے گھر پر فضائی حملے میں 11 افراد جاں بحق ہوئے۔
یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب آسٹریلیا، بیلجیم، برطانیہ اور کینیڈا سمیت 10 ممالک پیر کو باضابطہ طور پر آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں، جس سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے پہلے بڑی سیاسی ہلچل متوقع ہے۔
اسرائیل کی زمینی کارروائی اور بلند عمارتوں کو منہدم کرنے کی مہم تیز ہو گئی ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں تقریباً 20 ٹاور بلاکس تباہ کیے گئے جبکہ اندازاً 3 لاکھ 50 ہزار لوگ غزہ سٹی چھوڑ چکے ہیں، تاہم اب بھی 6 لاکھ سے زائد شہری وہاں محصور ہیں۔
حماس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی قیدیوں کی جانیں شدید خطرے میں ہیں کیونکہ اسرائیل کے بمباری اور پیش قدمی نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ وہ اس وقت تک ہتھیار نہیں ڈالے گی جب تک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہ ہو۔
تقریباً دو سال سے جاری جنگ میں اب تک 65 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، بیشتر ڈھانچے تباہ اور آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔
الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے کہا کہ حملوں میں ان کا بھائی اور بھابھی بھی جاں بحق ہوئے، جس نے اسپتال کے عملے کو بھی شدید صدمے سے دوچار کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔