چیٹ جی پی ٹی میں پرسنلائزیشن فیچر شامل، صارفین گفتگو اپنی پسند کے مطابق ڈھال سکیں گے
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی میں ایک اہم اپ ڈیٹ متعارف کرائی ہے جس کے تحت صارفین اب اپنی گفتگو کا انداز اپنی ترجیحات کے مطابق بدل سکیں گے۔
کمپنی کے سی ای او سام آلٹمین نے حال ہی میں ایکس (ٹوئٹر) پوسٹ میں اس نئے فیچر کی تفصیلات بتائیں۔ ان کے مطابق پرسنلائزیشن پیج میں مختلف پرسنلٹی ٹائپس جیسے Cynic، روبوٹ، لیسنر اور Nerd شامل کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل جیمنی پہلی بار چیٹ جی پی ٹی کو پیچھے چھوڑنے میں کامیاب، یہ کام کیسے ہوا؟
اس کے علاوہ کاسٹیوم انسٹرکشنز کا سیکشن بھی موجود ہے جسے صارفین بوٹ کے جوابات کو اپنی ضرورت کے مطابق بنانے کے لیے استعمال کرسکیں گے۔
اس پیج میں یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ صارف طے کر سکے کہ چیٹ بوٹ اسے کس نام سے مخاطب کرے، جبکہ دلچسپیوں اور ترجیحات کے اندراج کا آپشن بھی شامل ہے۔
اوپن اے آئی کے مطابق یہ فیچر اس لیے متعارف کرایا گیا ہے تاکہ چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ بات چیت زیادہ ذاتی اور دوستانہ انداز اختیار کرے اور صارفین کو حقیقی گفتگو جیسا تجربہ حاصل ہو۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانتوں کے بیچ شطرنج ٹورنامنٹ: اوپن اے آئی نے فائنل میں گروگ کو شکست دے کر مقابلہ جیت لیا
پرسنلائزیشن پیج میں ریفرنس چیٹ ہسٹری کا فیچر بھی دیا گیا ہے جس سے صارفین چاہیں تو چیٹ بوٹ کی میموری کو آن یا آف کر سکیں گے۔ یہ فیچر چیٹ جی پی ٹی کی سیٹنگز میں جا کر پرسنلائزیشن آپشن کے ذریعے فعال ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اوپن اے آئی پرسنلائزیشن چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی دوستانہ انداز نیا فیچر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوپن اے ا ئی پرسنلائزیشن چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی دوستانہ انداز نیا فیچر اوپن اے ا ئی چیٹ جی پی ٹی کے مطابق
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔