اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی میں ایک اہم اپ ڈیٹ متعارف کرائی ہے جس کے تحت صارفین اب اپنی گفتگو کا انداز اپنی ترجیحات کے مطابق بدل سکیں گے۔

کمپنی کے سی ای او سام آلٹمین نے حال ہی میں ایکس (ٹوئٹر) پوسٹ میں اس نئے فیچر کی تفصیلات بتائیں۔ ان کے مطابق پرسنلائزیشن پیج میں مختلف پرسنلٹی ٹائپس جیسے Cynic، روبوٹ، لیسنر اور Nerd شامل کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل جیمنی پہلی بار چیٹ جی پی ٹی کو پیچھے چھوڑنے میں کامیاب، یہ کام کیسے ہوا؟

اس کے علاوہ کاسٹیوم انسٹرکشنز کا سیکشن بھی موجود ہے جسے صارفین بوٹ کے جوابات کو اپنی ضرورت کے مطابق بنانے کے لیے استعمال کرسکیں گے۔

اس پیج میں یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ صارف طے کر سکے کہ چیٹ بوٹ اسے کس نام سے مخاطب کرے، جبکہ دلچسپیوں اور ترجیحات کے اندراج کا آپشن بھی شامل ہے۔

اوپن اے آئی کے مطابق یہ فیچر اس لیے متعارف کرایا گیا ہے تاکہ چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ بات چیت زیادہ ذاتی اور دوستانہ انداز اختیار کرے اور صارفین کو حقیقی گفتگو جیسا تجربہ حاصل ہو۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانتوں کے بیچ شطرنج ٹورنامنٹ: اوپن اے آئی نے فائنل میں گروگ کو شکست دے کر مقابلہ جیت لیا

پرسنلائزیشن پیج میں ریفرنس چیٹ ہسٹری کا فیچر بھی دیا گیا ہے جس سے صارفین چاہیں تو چیٹ بوٹ کی میموری کو آن یا آف کر سکیں گے۔ یہ فیچر چیٹ جی پی ٹی کی سیٹنگز میں جا کر پرسنلائزیشن آپشن کے ذریعے فعال ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اوپن اے آئی پرسنلائزیشن چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی دوستانہ انداز نیا فیچر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اوپن اے ا ئی پرسنلائزیشن چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی دوستانہ انداز نیا فیچر اوپن اے ا ئی چیٹ جی پی ٹی کے مطابق

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق