سندھ: کشمور کے کچے میں آپریشن، مغوی کانسٹیبل بازیاب، 3 ڈاکو ہلاک، 9 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
سندھ رینجرز اور پولیس نے کشمور کے کچے کے علاقے میں بدنام زمانہ بھیو گینگ کے خلاف کارروائی کرکے مغوی پولیس کانسٹیبل کو بازیاب کرالیا، آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 اغوا کار ڈاکو ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے۔
نجی ٹی وی کے مطابق ترجمان رینجرز نے بتایا کہ کشمور میں کچے کے علاقے میں مغوی پولیس اہلکار کو بازیاب کروانے کے لے رینجرز اور پولیس نے آپریشن کیا، دوران کارروائی ڈکیت گروہ کے ٹھکانے کو بھی مسمار کر دیا گیا۔
آپریشن کے دوران ڈاکوؤں نے نفری پر فائرنگ کر دی، بعد ازاں فائرنگ کے تبادلے میں 3 اغوا کار ڈاکو ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے۔
ترجمان رینجرز کے مطابق اغوا برائے تاوان میں ملوث خادم بھیو ڈکیت گینگ نےدوران ڈیوٹی پولیس کانسٹیبل کو اغوا کیا تھا، ڈکیت گروہ نے پولیس کانسٹیبل کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل کی تھی۔
بدنام زمانہ خادم بھیو جس کے سر پر 10 لاکھ روپے انعام مقرر ہے، وہ بھی زخمی ہونے والے ڈاکوؤں میں شامل ہے، اس کے علاوہ واجد بھیو، مالک جاگیرانی سمیت 9 ملزمان زخمی ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ سندھ میں کچے کے علاقوں میں آئے روز شہریوں کو ہنی ٹریپ کرکے اغوا کرنے کی وارداتیں عام ہیں، ڈاکوؤں کے گینگ سادہ لوح شہریوں کو خواتین اور سستی گاڑیوں سمیت کاروباری لالچ دیکر بلاتے ہیں، اور انہیں اغوا کرکے تاوان طلب کیا جاتا ہے۔
ڈاکوؤں کی جانب سے تاوان ادا کرنے کے لیے مغویوں کی ویڈیو بھی جاری کی جاتی ہے، اور تاوان نہ دینے پر قتل کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔
جنوری 2025 میں کراچی سے سکھر جانے والے 3 نوجوانوں کو کچے کے ڈاکوؤں نے اغوا کرلیا، اہلخانہ نے بتایا تھا کہ اغوا کاروں نے رہائی کے بدلے 60 لاکھ روپے تاوان مانگا ہے، زنجیروں میں جکڑے نوجوانوں کی ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی تھی۔
کراچی کے رہائشی 3 نوجوان علاقے گلبہار میں کارپٹ کی صفائی اور صوفوں کی مرمت کا کام کرتے تھے، مغویوں میں دو کزن اور ان کا ایک کاریگر شامل تھا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کچے کے
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔