فنانشل ٹائمز نے پیر کے روز رپورٹ کیا ہے کہ برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر اس وقت ویزا فیس ختم کرنے کی تجاویز پر غور کر رہے ہیں تاکہ دنیا کے صفِ اول کے ماہرین کو برطانیہ لایا جا سکے، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا نے امیگریشن پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق کیئر اسٹارمر کی گلوبل ٹیلنٹ ٹاسک فورس ایسے خیالات پر کام کر رہی ہے، جن کے ذریعے دنیا کے بہترین سائنس دانوں، ماہرینِ تعلیم اور ڈیجیٹل ماہرین کو برطانیہ کی جانب راغب کیا جا سکے، تاکہ معاشی ترقی کو فروغ دیا جائے۔

رپورٹ میں ان لوگوں کا حوالہ دیا گیا ہے جو ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ اور وزارت خزانہ کے مابین جاری ان مذاکرات سے باخبر ہیں۔

ایک عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ ویزا فیس کو صفر تک کم کرنے کا منصوبہ ان افراد کے لیے ہے جو دنیا کی 5 بہترین جامعات میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں یا جنہوں نے باوقار انعامات جیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ اصلاحات وزیر اعظم کی رہائش گاہ (ٹین) اور وزارت خزانہ کے درمیان اُس وقت زیرِ بحث آئیں جب ٹرمپ انتظامیہ نے اتوار سے نئی ’ایچ ون بی‘ ویزا درخواستوں پر ایک لاکھ ڈالر فیس عائد کرنے کا فیصلہ کیا، جو امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔

برطانوی مذاکرات میں شامل ایک شخص نے ’فنانشل ٹائمز‘ کو بتایا کہ امریکا کے اس فیصلے نے اُن لوگوں کو مزید تقویت دی ہے جو برطانیہ کے ہائی اینڈ ویزا نظام میں تبدیلی کے خواہاں ہیں، تاکہ 26 نومبر کے بجٹ سے قبل ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

برطانیہ کے گلوبل ٹیلنٹ ویزا کی درخواست کی لاگت 766 پاؤنڈ (ایک ہزار 30 امریکی ڈالر) ہے، جب کہ شریکِ حیات اور بچے بھی اتنی ہی فیس ادا کرتے ہیں۔

وزارت خزانہ اور ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ نے ’رائٹرز‘ کی تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے