برطانیہ کا دنیا کے صف اول کے ماہرین کیلئے ویزا فیس ختم کرنے کی تجاویز پر غور
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
فنانشل ٹائمز نے پیر کے روز رپورٹ کیا ہے کہ برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر اس وقت ویزا فیس ختم کرنے کی تجاویز پر غور کر رہے ہیں تاکہ دنیا کے صفِ اول کے ماہرین کو برطانیہ لایا جا سکے، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا نے امیگریشن پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق کیئر اسٹارمر کی گلوبل ٹیلنٹ ٹاسک فورس ایسے خیالات پر کام کر رہی ہے، جن کے ذریعے دنیا کے بہترین سائنس دانوں، ماہرینِ تعلیم اور ڈیجیٹل ماہرین کو برطانیہ کی جانب راغب کیا جا سکے، تاکہ معاشی ترقی کو فروغ دیا جائے۔
رپورٹ میں ان لوگوں کا حوالہ دیا گیا ہے جو ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ اور وزارت خزانہ کے مابین جاری ان مذاکرات سے باخبر ہیں۔
ایک عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ ویزا فیس کو صفر تک کم کرنے کا منصوبہ ان افراد کے لیے ہے جو دنیا کی 5 بہترین جامعات میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں یا جنہوں نے باوقار انعامات جیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ اصلاحات وزیر اعظم کی رہائش گاہ (ٹین) اور وزارت خزانہ کے درمیان اُس وقت زیرِ بحث آئیں جب ٹرمپ انتظامیہ نے اتوار سے نئی ’ایچ ون بی‘ ویزا درخواستوں پر ایک لاکھ ڈالر فیس عائد کرنے کا فیصلہ کیا، جو امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔
برطانوی مذاکرات میں شامل ایک شخص نے ’فنانشل ٹائمز‘ کو بتایا کہ امریکا کے اس فیصلے نے اُن لوگوں کو مزید تقویت دی ہے جو برطانیہ کے ہائی اینڈ ویزا نظام میں تبدیلی کے خواہاں ہیں، تاکہ 26 نومبر کے بجٹ سے قبل ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
برطانیہ کے گلوبل ٹیلنٹ ویزا کی درخواست کی لاگت 766 پاؤنڈ (ایک ہزار 30 امریکی ڈالر) ہے، جب کہ شریکِ حیات اور بچے بھی اتنی ہی فیس ادا کرتے ہیں۔
وزارت خزانہ اور ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ نے ’رائٹرز‘ کی تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔