پاکستان میں پولیو کے اور کیس کی تصدیق، رواں سال کیسز کی تعداد 27 ہوگئی WhatsAppFacebookTwitter 0 22 September, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس )نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے سندھ کے ضلع حیدرآباد سے نئے پولیو کیس کی تصدیق کردی، رواں سال پاکستان میں پولیو کے کیسز کی مجموعی تعداد 27 ہو گئی۔این ای او سی کے مطابق سال 2025 کے دوران اب تک سندھ میں پولیو کے 7 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے، پولیو ایک لاعلاج مرض ہے جو عمر بھر معذوری کا باعث بنتا ہے۔این ای او سی نے والدین سے اپیل کی ہے کہ ہر مہم میں اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلوائیں، آئندہ ملک گیر پولیو مہم 13 سے 19 اکتوبر تک منعقد ہوگی، جس میں ملک بھر میں 4 لاکھ سے زائد پولیو ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچا کی ویکسین پلائیں گے۔این ای او سی کے مطابق پولیو مہم کی کامیابی کے لیے والدین، کمیونٹی، اساتذہ، علما کرام اور میڈیا کا کردار نہایت اہم ہے۔

واضح رہے کہ ڈان اخبار میں 22 ستمبر 2025 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (آئی ایم بی) نے انتباہ جاری کیا ہے کہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔آئی ایم بی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 37 سال کی محنت اور 22 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود دنیا اس مقام پر آ گئی ہے جہاں پرانے طریقے زیادہ مفید ثابت نہیں ہورہے۔رپورٹ کے مطابق پولیو کے خاتمے کے یہ مشکل مراحل پرانے طریقوں سے عبور نہیں کیے جا سکتے، اس کے لیے نئی حکمتِ عملی اور ملکوں کی صاف اور مضبوط ذمہ داری ضروری ہے تاکہ کامیابی حاصل ہو۔آئی ایم بی کے چیئرمین سر لیام ڈونلڈسن نے عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس آدانوم گھیبرییسس کو لکھے گئے خط میں کہا کہ دی گلاس مانٹین کے عنوان سے یہ رپورٹ ایک اہم موڑ پر پیش کی گئی ہے۔

لیام ڈونلڈسن نے لکھا کہ مسلسل وائرل منتقلی، غیر معمولی جغرافیائی سیاسی خلفشار اور شدید مالی پابندیوں کا امتزاج ایسی صورت حال پیدا کر چکا ہے جو پروگرام کی بقا اور کامیابی کو بنیادی طور پر چیلنج کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2023 میں ابتدائی پرامیدی کے بعد وبا کی دوبارہ شدت کی سخت حقیقت سامنے آئی ہے، کیونکہ وائرس کے تاریخی ذخائر، جس میں پاکستان اور افغانستان شامل ہیں دوبارہ متاثر ہوئے ہیں۔عالمی ڈونر اداروں کی طرف سے کام کرنے والے آئی ایم بی نے کہا کہ کامیابی کے لیے صرف نئی سوچ، اداروں کا حوصلہ، حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی اور ملکوں کی صاف اور واضح ذمہ داری ہی راستہ ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرافغانستان کی دہشت گردی کے حوالے سے دوغلی پالیسی بے نقاب افغانستان کی دہشت گردی کے حوالے سے دوغلی پالیسی بے نقاب دمشق میں نئی تاریخ رقم: خانہ جنگی کے بعد شام کے پہلے پارلیمانی انتخابات کا اعلان فلسطین کو اقوام متحدہ کی رکنیت دی جائے: چین کی عالمی برادری سے اپیل ایس ای سی پی کیخلاف کیس؛ وکیل کے التوا ء مانگنے پر جسٹس محسن برہم شمالی کورین رہنما کم جونگ ان کی امریکا سے مذاکرات پر مشروط آمادگی لیبر افسر تعیناتی کیس: چیئرمین سی ڈی اے کے پاس 2 عہدے ہونے پر جسٹس محسن اختر کیانی کے اہم ریمارکس TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: پاکستان میں پولیو کے کی تصدیق کیسز کی

پڑھیں:

امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی

بھارتی ریاست کیرالہ(Kerala) سے ایک غیر معمولی اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک شخص کو سرکاری نوکری کا تقرری نامہ امتحان دینے کے 21 سال بعد جاری کیا گیا، تاہم اس وقت تک وہ عمر کی قانونی حد عبور کر چکا تھا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عبدالمجید نے 2005 میں جونیئر عربی ٹیچر کی آسامی کے لیے امتحان دیا تھا۔ وہ اس امتحان میں کامیاب امیدواروں کی فہرست میں بھی شامل تھے، تاہم اس وقت انہیں تقرری نہیں مل سکی۔ سرکاری فہرست کی مدت تین سال تھی جو 2008 میں ختم ہو گئی، مگر اس دوران خالی آسامی کو پر نہیں کیا جا سکا۔

طویل عرصے تک معاملہ التوا میں رہنے کے بعد 24 اپریل 2026 کو اچانک عبدالمجید کو تقرری نامہ جاری کر دیا گیا۔ لیکن چونکہ اس وقت تک ان کی عمر 60 سال ہو چکی تھی، اس لیے وہ سرکاری ملازمت کے لیے قانونی طور پر اہل نہیں رہے اور ملازمت سنبھال نہیں سکے۔

یہ صورتحال نہ صرف ایک فرد کے لیے مایوسی کا باعث بنی بلکہ سرکاری نظام کی سست روی اور انتظامی تاخیر پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عبدالمجید کا کہنا ہے کہ اگر انہیں بروقت تقرری مل جاتی تو وہ برسوں پہلے اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہوتے اور ان کا کیریئر مختلف ہوتا۔

مزیدپڑھیں:فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے

مزید دلچسپ اور متنازع پہلو اس وقت سامنے آیا جب ان کے تعلیمی ریکارڈ میں تاریخ پیدائش 27 مئی 1966 درج ہے، جبکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی اصل تاریخ پیدائش 27 مئی 1967 ہے۔ ان کے مطابق اگر سرکاری ریکارڈ میں ایک سال کی درستگی کر دی جائے تو وہ اب بھی ملازمت کے اہل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے اس حوالے سے ریاستی وزیر تعلیم اور قانونی ماہرین کو باضابطہ درخواستیں بھی جمع کروائی ہیں، جن میں انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے سرکاری نظام میں طویل تاخیر اور انتظامی ناکامی پر تنقید کی ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے متاثرہ شخص سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے