پاکستان سعودیہ معاہدہ پوری دنیا میں امن کا ضامن بنے گا: طاہر اشرفی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) چیئرمین پاکستان علماء کونسل علامہ طاہر محمود اشرفی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ پوری دنیا میں امن کا ضامن بنے گا۔ ہماری فوج سعودی عرب کے ساتھ مل کر حرمین شریفین کا دفاع کریگی۔ لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ یہ اعزاز اللہ نے صرف پاکستان کو دیا ہے، یہ معاہدہ بہت واضح ہے اگر پاکستان پر حملہ ہوگا تو سمجھا جائے گا کہ حملہ سعودی عرب پر ہوا ہے۔ جن لوگوں کو اس معاہدے سے تکلیف ہورہی ہے ان کو کیا مسئلہ ہے، وہ اس قوم کو ایک ہوتا ہوئے دیکھ نہیں سکتے۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ قطر پر بھی بمباری ہو جائے گی، جب بھارت نے ہم پر حملہ کیا تو دنیا خاموش تھی، پاکستان پر بھارت اور اسرائیل نے مل کر حملہ کیا تھا۔ علامہ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ وزیر اعظم فلسطین کانفرنس میں امت کا موقف پیش کریں گے، فلسطین کا وفد امریکا نہیں جا سکتا تو شہباز شریف فلسطین کا وفد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان ہمارا بھائی ہے لیکن اس سے شکوہ تو کرنا بنتا ہے، افغانستان کی سرزمین سے آکر کوئی خون بہائے تو گلہ تو بنتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔