سرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کیس‘نیب کوتحقیقات کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ میںکورنگی انڈسٹریل ایریا میں سرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کا معاملہ،عدالت کی نیب کو زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے معاملے تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت۔زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے اور انٹری فریز کرنے کے خلاف شہلا عمر اور دیگر کی درخواست کی سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی جہاں عدالت نے نیب کو زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے معاملے تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت کی عدالت کاکہنا تھا کہ ہم نے نیب کو تحقیقات کرنے سے نہیں روکا، تحقیقات کا عمل جاری رکھا جائے، نیب تفتیشی افسر کاکہنا تھا کہ درخواست گزاروں نے افسران کی ملی بھگت سے 2003 میں جعلی اور غیر قانونی طور ہر زمین الاٹ کروا لی، 200 ایکڑ سے زائد زمین کی جعلی الاٹمنٹ منسوخ کرالی ہے،کورنگی انڈ سٹریل ایریا میں سرکاری تھی جو پرائیو افراد نے اپنے نام کروالی، عدالت کاکہنا تھا کہ ہم نے تو نیب کو تحقیقات کرنے سے نہیں روکا، عدالت نے درخواست گزار کے سینئر وکیل کی عدم حاضری کے باعث سماعت ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر نیب سے پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ نیب کو
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔