سعودی عرب اور جی سی سی کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان کا خیرمقدم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
سعودی عرب،خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) اور رابطہ عالم اسلامی نے برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کی جانب سے اتوار کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔
سعودی عرب نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امن عمل کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق جی سی سی کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے بیان میں کہا’ تینوں ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو سرکاری طورپر تسلیم کیے جانے کا فیصلہ خوش آئند اور اہم تاریخی و منصفانہ اقدام ہے۔
سیکرٹیری جنرل کا کہنا تھا’ اس فیصلے سے فلسطینی عوام کے حق کو تسلیم کرنے کی راہیں مزید آسان ہوں گی جو 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد ریاست کے قیام کی ہیں جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔‘
انہوں نے ان ملکوں کی جانب سے کیے جانے والے فیصلے کو جراتمندانہ اقدام اورانسانی اقدار اور بین الاقوامی انصاف کے لیے مخلصانہ وابستگی قرار دیا۔
جاسم البدیوی نے مزید کہا ’ اس فیصلے سے خطے میں عالمی سطح پر منصفانہ اور جامع امن کے حصول کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔‘
انہوں دیگرممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس حق کو تسلیم کرنے میں تاخیر سے کام نہ لیں۔
رابطہ عالم اسلامی کی جنرل سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں سیکرٹری جنرل اور مسلم علما کمیٹی کے چیئرمین شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی نے تینوں حکومتوں کی جانب سے جاری ہونے والے فیصلے کو تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حق و انصاف پرمبنی فیصلہ ہے۔
ان کا کہنا تھا ’اس سے دوریاستی حل کے لیے کی جانے والی جانے والی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔
ڈاکٹر العیسی نے کہا کہ ’تینوں ممالک کی جانب سے کیا جانے والا اعلان اس اہم موقع پر سامنے آیا ہے جب دوریاستی حل کےلیے کانفرنس ہو رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔