تمام مسلم ممالک اسرائیل سے تعلقات ختم اور فلسطین ریاست کو تسلیم کریں: لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
---فائل فوٹو
نائب امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام مسلم ممالک اسرائیل سے تعلقات ختم اور فلسطین ریاست کو تسلیم کریں۔
لیاقت بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کا فلسطین کو تسلیم کرنے کا فیصلہ تاریخ ساز ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کا بگرام ایئر بیس امریکا کو نہ دینے کا مؤقف درست ہے۔
آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا نےفلسطین کی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا۔
لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت بلدیاتی نظام مستحکم اور بِلاتاخیر انتخابات کروائے، سیلاب کی تباہی سے فصلوں کے نقصانات اور کسانوں کو ریلیف بڑا چیلنج ہے۔
نائب امیرِ جماعتِ اسلامی نے یہ بھی کہا کہ صدر زرداری کے چین کے مطالعاتی دورے سے واپسی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لیاقت بلوچ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔