پنجاب میں 112 کم عمر بچے ماؤں کیساتھ جیلوں میں ناکردہ جرم کی سزائیں بھگتنے پر مجبور
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
لاہور:
پنجاب کی 45 جیلوں میں112 کم عمر ایسے بچے اور بچیاں بھی موجود ہیں جو بغیر کسی جرم اور گناہ کے اپنی ماؤں کے ہمراہ سزائیں کاٹنے پر مجبور ہیں، ان میں 55 لڑکے اور57 لڑکیاں شامل ہیں۔
محکمہ داخلہ پنجاب کی طرف سے روزنامہ ایکسپریس اور ایکسپریس ٹریبیون کو حاصل دستاویزات کے مطابق صوبے کی 45 مختلف جیلوں میں 6 سال یا اس سے کم عمر بچے اور بچیاں جیلوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
سب سے زیادہ کم عمر بچے اور بچیاں اڈیالہ جیل راولپنڈی اور وویمن جیل ملتان میں ہیں، سنٹرل جیل لاہور میں 10بچے جن میں پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیاں، سنٹرل جیل گوجرانوالہ میں12 بچے جن میں پانچ لڑکے اور سات لڑکیاں، ڈسٹرکٹ جیل قصور میں 2 لڑکے، ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں3بچیاں، ڈسٹرکٹ سیالکوٹ میں ایک بچی ، سنٹرل جیل ساہیوال میں4بچے جن میں تین بچے اور ایک بچی ، ڈسٹرکٹ جیل اوکاڑہ میں3بجے، ڈسٹرکٹ جیل پاکپتن میں ایک بچہ اور ایک بچی، اڈیالہ جیل راولپنڈی میں33بچے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈسٹرکٹ جیل جیلوں میں بچے اور
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔