Express News:
2026-07-24@06:07:04 GMT

یہ زندگی کا سوال ہے!

اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT

آج میں صبح ہی اٹھ کر بیٹھ گئی،کیوں کہ میرا ایک بڑے ادارے میں ملازمت کے لیے انٹرویو جو تھا۔ کئی روز سے انٹرویو کی تیاری کے بعد کام یابی کے لیے پُراعتماد تھی۔ ڈیفینس میں واقع دفتر میں ملازمت کے امیدوار لڑکے اور لڑکیوں کی ایک بھیڑ سی لگی ہوئی تھی۔ میں بھی اپنی فائل جمع کروا کے اطمینان سے اپنی قطار میں آکے بیٹھ گئی۔ انتظار کی کوفت کے اس دورانیے میں اچانک میری نظر علیزہ پر پڑی۔

’’ارے علیزہ تم یہاں؟‘‘ میں تیزی سے اٹھی اور جلدی سے جا کے علیزہ سے ہاتھ ملایا۔ علیزہ نے چونک کر میری جانب دیکھا اور دھیمی سی مسکراہٹ سے میرا ہاتھ تھام لیا۔ میں علیزہ سے باتیں کرنے لگی، لیکن میرے تمام تر اشتیاق کے باوجود علیزہ ہوں، ہاں سے زیادہ جواب نہیں دے رہی تھی۔ میرے لیے علیزہ کا یہ رویہ کافی زیادہ حیران کُن تھا، کیوں کہ جس علیزہ کو میں جانتی تھی۔ وہ بہت باتونی نہ سہی، لیکن اتنی کم گو بھی نہیں تھی۔ جامعہ کے دنوں میں اپنی حاضر جوابی کی وجہ سے اساتذہ کی نظروں میں رہتی تھی، لیکن صرف چند ماہ بعد یہ بجھی بجھی سی علیزہ۔۔۔ یہ یقیناً اس کی زندگی میں کسی بڑی پریشانی کی علامت تھا، مگر اتنے بہت سے لوگوں میں یہ سب پوچھنا کچھ مناسب نہیں لگا تھا۔ اسی لیے میں نے علیزہ سے طے کیا کہ انٹرویو سے فارغ ہوتے ہی ہم دونوں قریبی ’ریسٹورینٹ‘ میں بیٹھ کر کچھ دیر گپ شپ کریں گے اورانٹرویو ہوتے ہی میں نے اُسے جا لیا۔

’’ہاں بھئی، اب کھل کر بتاو کیا حال چال ہیں؟‘‘ ریسٹورینٹ پہنچتے ہی میں نے کافی منگواتے ہوئے کہا۔ تم اتنی چُپ چُپ کیوں ہو علیزہ؟ میں نے سنا تھا کہ آخری امتحانی پرچے کے فوراً بعد تمھاری شادی تھی۔ تم تو کینیڈا سدھارنے والی تھیں۔ پھر کیا ہوا کہیں یہاں ’انھیں‘ یاد کر کے تو اداس نہیں ہو؟ میں نے شوخی سے اُسے چھیڑتے ہوئے سوال کیا۔

میری بات سنتے ہی علیزہ کی انکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ میں نے گھبرا کر اسے سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن اس کے آنسوؤں نے تھمنے کا نام نہ لیا۔ اسی گلو گیر لہجے میں علیزہ نے بتایا کہ چٹ منگنی، پٹ بیاہ والی شادی، شادی نہیں بلکہ سراسر دھوکا تھی۔ لڑکے نے والدین کے زور دینے پر یا نہ جانے کس وجہ سے علیزہ سے شادی تو کرلی تھی، لیکن درحقیقت وہ یہ شادی کرنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ وجہ اس کے بدلے ہوئے نظریات تھے۔ وہ مغربی ماحول میں رہ کر مکمل مغربی سوچ کا حامل ہوگیا تھا۔ کئی خواتین سے تعلقات تھے اور اب یہ شادی نبھانے کے قابل ہی نہیں تھا۔ اسی لیے محض دو ہفتے بعد کینیڈا پہنچتے ہی اس نے علیزہ کو طلاق ای میل کر دی۔ اس فیصلے نے علیزہ کی زندگی اجاڑ دی۔ اس کے والدین کا سکون چھین لیا۔ اُسے ذہنی مریض بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس کا اپنی شخصیت پر اعتماد ڈانواں ڈول کر دیا ۔ اسے کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ اب زندگی کا سفر کیسے شروع ہوگا اور گزرے گا کیسے؟

علیزہ کی بات نے مجھے بھی دل گرفتہ کر دیا۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ ہم شادی میں دھوکے والے واقعات تو اکثر سنتے ہیں، لیکن مجھے لگتا تھا یہ سب محض ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے، جوزیادہ پڑھے لکھے نہ ہوں یا حد سے زیادہ سیدھے یا بے وقوف ہوں، جب کہ علیزہ کے تو والد پروفیسر اور والدہ بھی اچھی پڑھی لکھی اور سلجھی ہوئی خاتون ہیں۔ نہایت شریف اور ایک کھاتا پیتا گھرانہ اور علیزہ ان کی اکلوتی بیٹی اور تین بھائیوں کی اکلوتی لاڈلی بہن۔۔ ان کے ساتھ کوئی اتنی آسانی سے ہاتھ کیسے کر سکتا ہے؟

یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ جتنی سوچ بچار وقت سرمایہ ہم شادی کے انتظامات، پہناوؤں اور جہیز پر کر رہے ہیں۔ اتنا ہم لڑکے یا لڑکی کے ’کوائف‘ کی جانچ پڑتال پر نہیں کر رہے۔ یہی وجہ ہے کہ شادیوں میں دھوکا دہی کے واقعات بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ کہیں کسی عزیز رشتے دار یا رشتے والیوں پر اندھا بھروسا مار ڈالتا ہے، توکہیں زبردستی کی شادی کچھ اور ہی گل کھلاتی ہے۔ کہیں لالچ اپنا رنگ دکھاتا ہے، تو کہیں ملازمت اور تعلیم کے حوالے سے کہے گئے جھوٹ رشتہ ختم کرا دیتے ہیں۔ ایک عنصر جو اب اکثر نظر آتا ہے اور وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جارہا ہے، وہ لڑکوں کے ازدواجی رجحانات بھی ہیں، جن کا انجام طلاق یا خلع پر ہوتا ہے۔ ان تمام باتوں کی جڑ اسی بات میں ہے کہ والدین یا گھر کے بڑے ’کوائف‘ کی چھان پھٹک نہیں کرتے۔ عموماً اس کا شکار لڑکیاں ہوتی ہیں، جنھیں اپنے والدین یا سرپرستوں پر آنکھیں بند کر کے یقین ہوتا ہے اور وہ چپ چاپ ان کی پسند کو اپنی پسند بنانے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتیں۔

علیزہ کے معاملے میں بھی رشتے والی خاتون پر اندھا بھروسا لے ڈوبا۔ رشتے والی عورت علیزہ کی پھپھو کی پڑوسن تھیں اور انھوں نے لڑکے والوں کی پوری ذمہ داری لی تھی۔ یوں جلدی جلدی یہ رشتہ طے ہوا یا یوں کہیے کہ ہتھیلی پر سرسوں جمائی گئی، لیکن صرف دو ہفتوں میں اس ’بے جوڑ شادی‘ کا انجام سب کے سامنے تھا۔

علیزہ کا شکوہ تھا کہ اس کی طلاق ہونے کے بعد اس کی پھوپھو ہوں، بھائی یا والد، کسی نے بھی یہ احساس نہیں کیا کہ یہ سب ان کی غیرذمہ داری کا ہی نتیجہ تھا، بلکہ سب نے علیزہ کی قسمت کو ہی ’موردِ الزام‘ ٹھیرایا۔ لڑکے کے بارے میں وہ معلومات جو انھیں رشتہ طے کرانے سے پہلے کروانی چاہیے تھیں۔ وہ بعد میں کروائی گئیں۔ سب نے ہی یہ کہہ کر علیزہ کو تسلی دی کہ ہماری نیت بری نہیں تھی۔ شاید تمھاری قسمت میں ہی یہ سب لکھا ہوا تھا۔

جان سے عزیز والدین ! قسمت کو ہی سارا دوش نہ دیجیے، بلکہ کچھ ہوش اور سمجھ داری سے بھی کام لیجیے۔ آپ کی وہ لاڈلی جسے آپ نے نازوں سے پالا، ہرگز اس سلوک کی مستحق نہیں کہ کوئی بھی ان جان شخص اُسے ٹھوکروں پر لے آئے۔ بیس، پچیس سال تک آپ نے اپنی بیٹی کو پالا پوسا، اس کے ناز نخرے اٹھائے اسے پڑھایا لکھایا اور اس شہزادی نے بھی آپ کے بھروسے کو کبھی ٹھیس نہ پہنچائی۔ تو اب آپ اس کے مستقبل کا فیصلہ ایسے لاابالی انداز میں کیسے کر سکتے ہیں؟

جس شخص کے ہاتھ میں آپ اپنی بیٹی کی قسمت کی ڈور پکڑانے والے ہیں پہلے ان کو پرکھ تو لیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بیٹی کسی کٹی ہوئی پتنگ کی طرح ڈولتی رہے اور بے یار و مددگار ہی ہو جائے۔ جب بیٹے یا بیٹی کا رشتہ کرنے لگیں، تو کسی پر اندھا اعتماد نہ کریں، بلکہ خود یا انتہائی بھروسے والے عزیز کو ساتھ ملا کر تمام امورکی جانچ پڑتال کریں۔ لڑکے کے محلے اور پاس پڑوس میں بھی پتا کریں۔ اگر کوئی شخص علاقے میں نیا منتقل ہوا ہے، تو اس سے قبل بھی وہ خاندان کہیں نہ کہیں تو رہتا ہوگا۔ اُس محلے میں بھی جا کے رہائشیوں اور دکان داروں وغیرہ سے دریافت کیجیے۔ لڑکے کی جہاں ملازمت ہے، وہاں جا کر بھی پتا کیجیے۔ صرف تنخواہ ہی نہیں، لڑکے کی عادت اطوار، میل جول کیسا ہے، یہ سب پوچھیے۔

اگر لڑکا شہر سے باہر یا ملک سے باہر ہے، تو اس وقت تک فیصلہ ہرگز نہ کیجیے، جب تک اس حوالے سے بااعتماد ذرائع سے مستند معلومات نہ مل جائیں۔ ایسے میں  اگر لڑکے یا لڑکی والے جلد بازی کریں تو جان لیجیے کہ یہ سرخ بتی ہے۔ انھیں بتادیجیے کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔ اگر انھیں زیادہ جلدی ہے، تو بے شک وہ کسی اور گھر کا رخ کر سکتے ہیں۔ انھیں بتا دیجیے کہ پہلے آپ ٹھونک بجا کر اپنی تسلی کریں گے، پھر کوئی فیصلہ ہوگا، کیوں کہ یہ آپ کی نازوں پالی بیٹیوں اور شہزادیوں کی پوری زندگی کا سوال ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: علیزہ سے نے علیزہ علیزہ کی میں بھی

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف