آج میں صبح ہی اٹھ کر بیٹھ گئی،کیوں کہ میرا ایک بڑے ادارے میں ملازمت کے لیے انٹرویو جو تھا۔ کئی روز سے انٹرویو کی تیاری کے بعد کام یابی کے لیے پُراعتماد تھی۔ ڈیفینس میں واقع دفتر میں ملازمت کے امیدوار لڑکے اور لڑکیوں کی ایک بھیڑ سی لگی ہوئی تھی۔ میں بھی اپنی فائل جمع کروا کے اطمینان سے اپنی قطار میں آکے بیٹھ گئی۔ انتظار کی کوفت کے اس دورانیے میں اچانک میری نظر علیزہ پر پڑی۔
’’ارے علیزہ تم یہاں؟‘‘ میں تیزی سے اٹھی اور جلدی سے جا کے علیزہ سے ہاتھ ملایا۔ علیزہ نے چونک کر میری جانب دیکھا اور دھیمی سی مسکراہٹ سے میرا ہاتھ تھام لیا۔ میں علیزہ سے باتیں کرنے لگی، لیکن میرے تمام تر اشتیاق کے باوجود علیزہ ہوں، ہاں سے زیادہ جواب نہیں دے رہی تھی۔ میرے لیے علیزہ کا یہ رویہ کافی زیادہ حیران کُن تھا، کیوں کہ جس علیزہ کو میں جانتی تھی۔ وہ بہت باتونی نہ سہی، لیکن اتنی کم گو بھی نہیں تھی۔ جامعہ کے دنوں میں اپنی حاضر جوابی کی وجہ سے اساتذہ کی نظروں میں رہتی تھی، لیکن صرف چند ماہ بعد یہ بجھی بجھی سی علیزہ۔۔۔ یہ یقیناً اس کی زندگی میں کسی بڑی پریشانی کی علامت تھا، مگر اتنے بہت سے لوگوں میں یہ سب پوچھنا کچھ مناسب نہیں لگا تھا۔ اسی لیے میں نے علیزہ سے طے کیا کہ انٹرویو سے فارغ ہوتے ہی ہم دونوں قریبی ’ریسٹورینٹ‘ میں بیٹھ کر کچھ دیر گپ شپ کریں گے اورانٹرویو ہوتے ہی میں نے اُسے جا لیا۔
’’ہاں بھئی، اب کھل کر بتاو کیا حال چال ہیں؟‘‘ ریسٹورینٹ پہنچتے ہی میں نے کافی منگواتے ہوئے کہا۔ تم اتنی چُپ چُپ کیوں ہو علیزہ؟ میں نے سنا تھا کہ آخری امتحانی پرچے کے فوراً بعد تمھاری شادی تھی۔ تم تو کینیڈا سدھارنے والی تھیں۔ پھر کیا ہوا کہیں یہاں ’انھیں‘ یاد کر کے تو اداس نہیں ہو؟ میں نے شوخی سے اُسے چھیڑتے ہوئے سوال کیا۔
میری بات سنتے ہی علیزہ کی انکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ میں نے گھبرا کر اسے سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن اس کے آنسوؤں نے تھمنے کا نام نہ لیا۔ اسی گلو گیر لہجے میں علیزہ نے بتایا کہ چٹ منگنی، پٹ بیاہ والی شادی، شادی نہیں بلکہ سراسر دھوکا تھی۔ لڑکے نے والدین کے زور دینے پر یا نہ جانے کس وجہ سے علیزہ سے شادی تو کرلی تھی، لیکن درحقیقت وہ یہ شادی کرنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ وجہ اس کے بدلے ہوئے نظریات تھے۔ وہ مغربی ماحول میں رہ کر مکمل مغربی سوچ کا حامل ہوگیا تھا۔ کئی خواتین سے تعلقات تھے اور اب یہ شادی نبھانے کے قابل ہی نہیں تھا۔ اسی لیے محض دو ہفتے بعد کینیڈا پہنچتے ہی اس نے علیزہ کو طلاق ای میل کر دی۔ اس فیصلے نے علیزہ کی زندگی اجاڑ دی۔ اس کے والدین کا سکون چھین لیا۔ اُسے ذہنی مریض بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس کا اپنی شخصیت پر اعتماد ڈانواں ڈول کر دیا ۔ اسے کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ اب زندگی کا سفر کیسے شروع ہوگا اور گزرے گا کیسے؟
علیزہ کی بات نے مجھے بھی دل گرفتہ کر دیا۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ ہم شادی میں دھوکے والے واقعات تو اکثر سنتے ہیں، لیکن مجھے لگتا تھا یہ سب محض ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے، جوزیادہ پڑھے لکھے نہ ہوں یا حد سے زیادہ سیدھے یا بے وقوف ہوں، جب کہ علیزہ کے تو والد پروفیسر اور والدہ بھی اچھی پڑھی لکھی اور سلجھی ہوئی خاتون ہیں۔ نہایت شریف اور ایک کھاتا پیتا گھرانہ اور علیزہ ان کی اکلوتی بیٹی اور تین بھائیوں کی اکلوتی لاڈلی بہن۔۔ ان کے ساتھ کوئی اتنی آسانی سے ہاتھ کیسے کر سکتا ہے؟
یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ جتنی سوچ بچار وقت سرمایہ ہم شادی کے انتظامات، پہناوؤں اور جہیز پر کر رہے ہیں۔ اتنا ہم لڑکے یا لڑکی کے ’کوائف‘ کی جانچ پڑتال پر نہیں کر رہے۔ یہی وجہ ہے کہ شادیوں میں دھوکا دہی کے واقعات بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ کہیں کسی عزیز رشتے دار یا رشتے والیوں پر اندھا بھروسا مار ڈالتا ہے، توکہیں زبردستی کی شادی کچھ اور ہی گل کھلاتی ہے۔ کہیں لالچ اپنا رنگ دکھاتا ہے، تو کہیں ملازمت اور تعلیم کے حوالے سے کہے گئے جھوٹ رشتہ ختم کرا دیتے ہیں۔ ایک عنصر جو اب اکثر نظر آتا ہے اور وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جارہا ہے، وہ لڑکوں کے ازدواجی رجحانات بھی ہیں، جن کا انجام طلاق یا خلع پر ہوتا ہے۔ ان تمام باتوں کی جڑ اسی بات میں ہے کہ والدین یا گھر کے بڑے ’کوائف‘ کی چھان پھٹک نہیں کرتے۔ عموماً اس کا شکار لڑکیاں ہوتی ہیں، جنھیں اپنے والدین یا سرپرستوں پر آنکھیں بند کر کے یقین ہوتا ہے اور وہ چپ چاپ ان کی پسند کو اپنی پسند بنانے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتیں۔
علیزہ کے معاملے میں بھی رشتے والی خاتون پر اندھا بھروسا لے ڈوبا۔ رشتے والی عورت علیزہ کی پھپھو کی پڑوسن تھیں اور انھوں نے لڑکے والوں کی پوری ذمہ داری لی تھی۔ یوں جلدی جلدی یہ رشتہ طے ہوا یا یوں کہیے کہ ہتھیلی پر سرسوں جمائی گئی، لیکن صرف دو ہفتوں میں اس ’بے جوڑ شادی‘ کا انجام سب کے سامنے تھا۔
علیزہ کا شکوہ تھا کہ اس کی طلاق ہونے کے بعد اس کی پھوپھو ہوں، بھائی یا والد، کسی نے بھی یہ احساس نہیں کیا کہ یہ سب ان کی غیرذمہ داری کا ہی نتیجہ تھا، بلکہ سب نے علیزہ کی قسمت کو ہی ’موردِ الزام‘ ٹھیرایا۔ لڑکے کے بارے میں وہ معلومات جو انھیں رشتہ طے کرانے سے پہلے کروانی چاہیے تھیں۔ وہ بعد میں کروائی گئیں۔ سب نے ہی یہ کہہ کر علیزہ کو تسلی دی کہ ہماری نیت بری نہیں تھی۔ شاید تمھاری قسمت میں ہی یہ سب لکھا ہوا تھا۔
جان سے عزیز والدین ! قسمت کو ہی سارا دوش نہ دیجیے، بلکہ کچھ ہوش اور سمجھ داری سے بھی کام لیجیے۔ آپ کی وہ لاڈلی جسے آپ نے نازوں سے پالا، ہرگز اس سلوک کی مستحق نہیں کہ کوئی بھی ان جان شخص اُسے ٹھوکروں پر لے آئے۔ بیس، پچیس سال تک آپ نے اپنی بیٹی کو پالا پوسا، اس کے ناز نخرے اٹھائے اسے پڑھایا لکھایا اور اس شہزادی نے بھی آپ کے بھروسے کو کبھی ٹھیس نہ پہنچائی۔ تو اب آپ اس کے مستقبل کا فیصلہ ایسے لاابالی انداز میں کیسے کر سکتے ہیں؟
جس شخص کے ہاتھ میں آپ اپنی بیٹی کی قسمت کی ڈور پکڑانے والے ہیں پہلے ان کو پرکھ تو لیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بیٹی کسی کٹی ہوئی پتنگ کی طرح ڈولتی رہے اور بے یار و مددگار ہی ہو جائے۔ جب بیٹے یا بیٹی کا رشتہ کرنے لگیں، تو کسی پر اندھا اعتماد نہ کریں، بلکہ خود یا انتہائی بھروسے والے عزیز کو ساتھ ملا کر تمام امورکی جانچ پڑتال کریں۔ لڑکے کے محلے اور پاس پڑوس میں بھی پتا کریں۔ اگر کوئی شخص علاقے میں نیا منتقل ہوا ہے، تو اس سے قبل بھی وہ خاندان کہیں نہ کہیں تو رہتا ہوگا۔ اُس محلے میں بھی جا کے رہائشیوں اور دکان داروں وغیرہ سے دریافت کیجیے۔ لڑکے کی جہاں ملازمت ہے، وہاں جا کر بھی پتا کیجیے۔ صرف تنخواہ ہی نہیں، لڑکے کی عادت اطوار، میل جول کیسا ہے، یہ سب پوچھیے۔
اگر لڑکا شہر سے باہر یا ملک سے باہر ہے، تو اس وقت تک فیصلہ ہرگز نہ کیجیے، جب تک اس حوالے سے بااعتماد ذرائع سے مستند معلومات نہ مل جائیں۔ ایسے میں اگر لڑکے یا لڑکی والے جلد بازی کریں تو جان لیجیے کہ یہ سرخ بتی ہے۔ انھیں بتادیجیے کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔ اگر انھیں زیادہ جلدی ہے، تو بے شک وہ کسی اور گھر کا رخ کر سکتے ہیں۔ انھیں بتا دیجیے کہ پہلے آپ ٹھونک بجا کر اپنی تسلی کریں گے، پھر کوئی فیصلہ ہوگا، کیوں کہ یہ آپ کی نازوں پالی بیٹیوں اور شہزادیوں کی پوری زندگی کا سوال ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علیزہ سے نے علیزہ علیزہ کی میں بھی
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔