وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے تحت 6 پروگرامز متعارف کرا دیے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ آئی ٹی کے شعبے میں ترقی کے لیے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے اور انڈسٹری کو سہولتیں دی جائیں گی۔ وہ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے ٹیک انشیٹیو فار پاکستان کی تقریب سے خطاب کر رہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی مسلسل ہدایت ہے کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ پاکستان نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر ہی ترقی کر سکتا ہے۔
شزہ فاطمہ نے بتایا کہ 25 ارب ڈالر کے مجموعی ہدف میں 15 ارب ڈالر آئی ٹی ایکسپورٹ اور 10 ارب ڈالر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سے حاصل کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے نوجوانوں کو انٹرن شپ، انڈسٹری مواقع، جدید ٹیکنالوجی کی تربیت، عالمی معیارات کی سرٹیفکیشن اور سافٹ اسکلز کی بہتری کے پروگرامز فراہم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 2700 نوجوانوں کو انٹرن شپ دی گئی جبکہ اس سال مزید 9000 انٹرن شپ دی جائیں گی۔ تین سال میں 18000 نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔ مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ، سائبر سکیورٹی، بلاک چین اور بی پی او جیسے شعبوں میں عالمی طلب بڑھ رہی ہے، جس کے لیے پاکستان میں نوجوانوں کو بوٹ کیمپس کے ذریعے تربیت دی جائے گی۔
مزید کہا کہ "سرٹیفائی ٹو ایکسپورٹ" پروگرام کے تحت چھوٹی کمپنیوں کو عالمی سرٹیفکیشن دلوائی جا رہی ہے تاکہ ایکسپورٹ میں اضافہ ہو سکے۔ اب تک 40 کمپنیوں کی معاونت کی جا چکی ہے جبکہ مزید 50 کو عالمی معیارات کی سرٹیفکیشن دلائی جائے گی۔ اس اقدام سے یورپی مارکیٹ میں پاکستانی آئی ٹی ریونیو میں 15 سے 25 فیصد اضافہ ہوگا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آئی ٹی کمپنی رجسٹریشن کا عمل اب صرف 9 منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے، جبکہ مرکز انڈسٹری فیسلیٹیشن پروگرام کے ذریعے صنعت کو رجسٹریشن، ٹیکس قوانین اور دیگر تقاضوں پر عمل درآمد میں 24 گھنٹے معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نوجوانوں کو آئی ٹی کے لیے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔