ویکسین مہم سے طالبات کی حالت خراب، وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس ، واٹس ایپ اور فیس بک پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہی ہے، جس میں اسکول یونیفارم پہنی لڑکیاں اسپتال کے بستر پر دکھائی دیتی ہیں۔ متعدد صارفین نے دعویٰ کیا کہ یہ مناظر ایچ پی وی ویکسین لگنے کے بعد طالبات کی طبیعت بگڑنے کے ہیں۔
فیکٹ چیک ٹیم کی تحقیق نے اس دعوے کی حقیقت آشکار کردی۔ جانچ پڑتال کے بعد واضح ہوا کہ وڈیو کا ویکسی نیشن مہم سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ مئی 2024 میں آزاد جموں و کشمیر کے علاقے ڈھیڈیال میں پولیس کی آنسو گیس شیلنگ کے دوران پیش آنے والے واقعے کی ہے۔
یہ غلط دعویٰ اس وقت زور پکڑا جب ایکس پوسٹ میں ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا کہ ’’اسکولوں میں زبردستی ویکسی نیشن کے بعد بچیاں بیمار ہوگئیں۔‘‘ اس پوسٹ کو لاکھوں افراد نے دیکھا اور ہزاروں بار شیئر کیا۔ تاہم، اس بیان میں نہ تو واقعے کی جگہ، نہ تاریخ اور نہ ہی ویکسین کی وضاحت دی گئی۔
مزید تلاش کے نتیجے میں یہ ویڈیو 9 مئی 2024 کو یوٹیوب پر بھی سامنے آئی، جس کا عنوان تھا: ’’ڈھیڈیال میں لڑکیوں کے اسکولوں پر پولیس نے آنسو گیس کے شیل برسا دیے۔‘‘
اسی روز صحافی بشارت راجہ نے ایکس پر اس واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا تھا کہ پولیس اور نامعلوم افراد کی جانب سے حد سے زیادہ آنسو گیس کے استعمال سے طالبات بے ہوش ہوگئیں۔ بعد ازاں اخبارات کی رپورٹ سے بھی اس بات کی تصدیق ہوئی کہ یہ واقعہ آزاد کشمیر میں بجلی کے بلوں اور ٹیکسوں کے خلاف احتجاج کے دوران پیش آیا تھا۔
دوسری جانب، ایچ پی وی ویکسی نیشن مہم کے حوالے سے حقائق یکسر مختلف ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور پاکستان کے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کے مطابق یہ مہم ستمبر 2025 میں شروع کی گئی ہے، جس کا مقصد 9 سے 14 سال کی عمر کی 13 ملین بچیوں کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین لگانا ہے۔ یہ ویکسین محفوظ اور مؤثر ہے، جس کے صرف معمولی ضمنی اثرات جیسے انجیکشن کی جگہ پر ہلکا درد یا بخار ظاہر ہوسکتے ہیں، جو دیگر ویکسینز کی طرح عام ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان
پڑھیں:
گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا
اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔
گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی
ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل گوگل پاسپورڈ