کراچی میں وومن باکسنگ کوچنگ کیمپ کا اختتام، خواتین کھلاڑیوں میں کٹس اور سرٹیفیکیٹس تقسیم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (رپورٹ:مقصود احمد خان) پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن خواتین ونگ کی وائس پریزیڈنٹ مس وینا مسعود نے کہا ہے کہ خواتین کیلئے سمر کوچنگ کیمپ کے انعقاد کا مقصد نئے ٹیلنٹ کو آگے لانا اور ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے۔
کراچی ڈویژن باکسنگ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام اور سندھ باکسنگ ایسوسی ایشن کے تعاون سے استاد علی محمد قنبرانی باکسنگ ایرینا، ککری اسپورٹس کمپلیکس لیاری میں دو ماہ جاری رہنے والے ٹیلنٹ ہنٹ سمر وومن باکسنگ کوچنگ کیمپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواتین کسی بھی شعبے میں مردوں سے کمتر نہیں ہیں اور کھیلوں کے میدان میں بھی اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہی ہیں۔
اس موقع پر سندھ اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل احمد علی راجپوت نے کہا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور سندھ اولمپک ایسوسی ایشن اولمپک چارٹر پر عمل پیرا ہیں اور کھیلوں کے فروغ کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دسمبر میں ہونے والے نیشنل گیمز کے لیے تمام ایسوسی ایشنز بھرپور تیاری میں مصروف ہیں، اور امید ہے کہ خواتین کے ایونٹس میں بھی سندھ کی ٹیمیں شاندار کارکردگی دکھائیں گی، جس کے لیے یہ کوچنگ کیمپ سنگ میل ثابت ہوگا۔
تقریب کے اختتام پر وومن باکسنگ کھلاڑیوں میں کٹس اور سرٹیفیکیٹس تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر سندھ اولمپک ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری احمد علی راجپوت، سندھ باکسنگ ایسوسی ایشن کے صدر محمد اصغر بلوچ، سیکریٹری عبدالرزاق، عابد حسین بروہی، محمد یونس پٹھان، آرگنائزنگ سیکریٹری مس سمیعہ رفیق، گوہر رضا، میڈیا کوآرڈینیٹر کاشف احمد فاروقی سمیت دیگر شخصیات بھی شریک تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اولمپک ایسوسی ایشن ایسوسی ایشن کے کوچنگ کیمپ نے کہا
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔