WE News:
2026-06-03@00:43:25 GMT

فضائی میزبانوں کی صحت پر سوالیہ نشان؟

اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT

فضائی میزبانوں کی صحت پر سوالیہ نشان؟

جہاز میں داخل ہوتے ہی مسافروں کا سامنا ایک خوش اخلاق اور مسکراتے چہرے سے ہوتا ہے۔ یہ مسکراہٹ سفر کو خوشگوار بناتی ہے، مگر اس کے پیچھے ایک تلخ حقیقت چھپی ہے۔ یہ چہرے اکثر تھکن، دباؤ اور بیماری کی کہانی سناتے ہیں۔

مئی 2025 کی ایک تازہ تحقیق (Scientific Reports) نے چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے۔ فضائی میزبانوں کے خون میں مسلسل پروازوں کے بعد DNA repair mechanisms متاثر ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ جسم میں oxidative damage اور inflammatory responses بڑھ جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال کینسر اور دیگر مہلک بیماریوں کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

ڈاکٹر جاوید بلوائی کا کہنا ہے کہ عالمی تحقیقات جیسے Harvard Flight Attendant Health Study اور CDC رپورٹس نے واضح کر دیا ہے کہ فضائی عملہ کینسر، ڈپریشن، دل کے امراض اور کیبن کے اندر موجود انجن کے دھوئیں سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔

سابق فلائٹ سرجن ڈاکٹر آفریدی کے مطابق شوگر، بلڈ پریشر اور اضطراب جیسی بیماریاں زیادہ تر تھکن اور ذہنی دباؤ کے باعث کیبن کریو میں بڑھ رہی ہیں۔

امریکہ میں NIOSH کی تحقیق (5366 فلائٹ اٹینڈنٹس پر) نے ثابت کیا کہ ان میں میلانوما اور بریسٹ کینسر کی شرح عام شہریوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

فن لینڈ کی تحقیق میں خواتین کریو میں بریسٹ کینسر کی شرح دوگنی پائی گئی، جس کے بعد وہاں ایئرلائنز نے ریڈی ایشن مانیٹرنگ پروگرام شروع کیے۔

ڈنمارک کی ایک رپورٹ کے مطابق رات کی پروازوں والے عملے میں ذیابیطس اور ہارمونی مسائل عام ہیں۔ برطانیہ میں برٹش ایئرویز کے نصف کریو نے ڈپریشن اور دائمی تھکن کی شکایت کی۔ نتیجتاً “Crew Support Program” شروع کیا گیا۔

2003 کے SARS اور بعد میں COVID-19 وبا کے 0دوران سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ ایئرپورٹ اسٹاف اور کیبن کریو تھے۔ بند کیبن میں مسلسل رہنے کی وجہ سے وائرس تیزی سے پھیلتا ہے، اور عملہ سب سے پہلے نشانہ بنتا ہے۔

تحقیقات بتاتی ہیں کہ خواتین کریو ہارمونی مسائل، حمل کی پیچیدگیوں اور بریسٹ کینسر کے بڑھتے امکانات کا شکار ہیں۔ اسکینڈینیوین ممالک نے اس خطرے کو دیکھتے ہوئے خواتین کے لیے خصوصی میڈیکل پروگرام اور لازمی ریڈی ایشن چیک اپ نافذ کیے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق کیبن کریو ایک “at-risk population” ہیں۔ ان کے لیے لازمی ہے کہ:

ڈیوٹی آورز محدود کیے جائیں۔۔

ریڈی ایشن مانیٹرنگ سسٹم ہو، ذہنی صحت کے پروگرام متعارف ہوں، اور ریگولر میڈیکل چیک اپ یقینی بنایا جائے۔

اسی طرح ICAO نے بھی ممبر ممالک کو ہدایت دی ہے کہ کیبن کریو کے لیے میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی ہوں، Fatigue Risk Management System پر عمل ہو، اور ذہنی صحت کی جانچ خفیہ مگر لازمی ہو۔

پاکستان کی صورت حال کافی مختلف ہے

پاکستان میں پائلٹس کے لیے تو سول ایوی ایشن اتھارٹی کا سخت میڈیکل بورڈ موجود ہے، مگر کیبن کریو کا معائنہ صرف ایئرلائنز پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ کوئی آزاد اور شفاف نگرانی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایئرلائنز اپنے عملے کی صحت پر ہمیشہ سنجیدہ رہتی ہیں؟

دنیا کے کئی ممالک جیسے یورپی یونین، امریکہ اور برطانیہ میں کیبن کریو کے لیے سخت میڈیکل سسٹمز نافذ ہیں۔ پاکستان میں بھی اس کی فوری ضرورت ہے۔

پاکستان کے لیے سفارشات: کیبن کریو کے لیے مرکزی اور شفاف میڈیکل بورڈ قائم کیا جائے۔ ڈیوٹی آورز کی واضح حد مقرر کی جائے۔ خواتین عملے کے لیے خصوصی صحت پالیسی بنائی جائے۔ ذہنی صحت اور ڈپریشن کے علاج کے پروگرام لازمی ہوں۔ ریڈی ایشن مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا جائے۔

یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ فضائی سفر کی قیمت صرف مسافروں کی ٹکٹ نہیں بلکہ کیبن کریو کی صحت بھی ہے۔ اگر حکومت اور ایئرلائنز نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والے برسوں میں یہ ایک بڑے ایوی ایشن بحران میں بدل سکتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عبید الرحمان عباسی

مصنف سابق سینئر ایڈیشنل ڈائریکٹر لاء پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور اسلام آباد میں مقیم ایوی ایشن اینڈ انٹرنیشنل لاء کنسلٹنٹ ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کیبن کریو ریڈی ایشن ایوی ایشن کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟