88فیصد غزہ اہل فلسطین سے خالی ۔ اسرائیل نے شہر کا 70 فیصدحصہ تباہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
غزہ: اسرائیل کے جبری انخلا کے احکامات اور مسلسل بمباری و دھماکوں کے نتیجے میں غزہ کی زمین کا 88فیصد سے زائد حصہ اہلِ فلسطین سے خالی کرایا جا چکا ہے۔ اب محصور عوام کو محض 12فیصد علاقے میں ٹھونسنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق قابض اسرائیل نے اپنی منصوبہ بندی میں محض 12 فیصد زمین کو پناہ گزین علاقوں کے طور پر مختص کیا ہے، جہاں دو ملین سے زائد انسانوں کو ایک قید خانے کی طرح دھکیل دیا گیا ہے۔دفتر کا کہنا ہے کہ صرف خان یونس کے المواصی علاقے میں ہی تقریباً دس لاکھ افراد پناہ لینے پر مجبور ہیں حالانکہ ان پر 110 سے زائد فضائی حملے کیے گئے اور دو ہزار سے زیادہ شہری شہید ہو چکے ہیں۔
یہ علاقے بنیادی زندگی کی ہر سہولت سے محروم ہیں اور یہاں جینا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ غزہ شہر میں اس وقت سب سے ہولناک منظر نامہ ہے۔ انروا کے میڈیا مشیر عدنان ابو حسنہ نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ لاکھوں شہری محض دس مربع کلومیٹر کے رقبے میں سمٹنے پر مجبور ہیں، جہاں وہ یا تو ٹوٹے پھوٹے خیموں میں رہتے ہیں یا اپنے اجڑے گھروں کے ملبے کے سائے میں۔ پانی، خوراک اور بنیادی خدمات ناپید ہیں۔
ابو حسنہ کے مطابق عالمی ادارہ خوراک نے غزہ کو قحط زدہ علاقہ قرار دیا ہے اور اب حالات مزید بدتر ہو چکے ہیں۔ جنوب کی طرف نقل مکانی کے لیے ایک خاندان کو اوسطاً 3200 ڈالر درکار ہیں جو تقریباً کسی کے پاس نہیں۔ اس وقت 95فیصد سے زیادہ آبادی صرف انسانی امداد پر زندہ ہے جبکہ تنخواہیں اور نقدی ناپید ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قابض اسرائیل نے غزہ شہر کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ تباہ کر دیا ہے۔ یہ وہ قدیم شہر ہے جس کی تاریخ پانچ ہزار برس پرانی ہے اور جو اسلامی، مسیحی، بازنطینی اور فرعونی آثار کا امین ہے۔
ابو حسنہ نے بتایا کہ جنوبی غزہ میں بھی حالات مختلف نہیں۔ شدید ہجوم کی وجہ سے وہاں اب نئی خیمہ گاہ لگانے کی جگہ باقی نہیں رہی۔ پینے کا پانی، نکاسی کا نظام اور صحت کی سہولتیں مفلوج ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ 12 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو محض 35 مربع کلومیٹر کے علاقے میں جبراً قید کیا جا رہا ہے۔ یہ کھلی انسانی تباہی ہے۔ مزید یہ کہ اندیشہ ہے کہ قابض اسرائیل فلسطینیوں کو سمندر یا فضا کے راستے غزہ سے مکمل طور پر باہر نکالنے کی کوشش کرے گا کیونکہ مصر نے اس منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: سے زیادہ
پڑھیں:
افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA
— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026
اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا
طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔
آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سیلاب نورستان