اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے؛ اٹلی نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کیلیے کڑی شرط رکھ دی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل کہا کہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرسکتے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے یہ بیان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں دیا۔
انھوں نے واضح کیا کہ فلسطینی ریاست صرف اسی صورت تسلیم کریں گے جب حماس کو مستقبل کی کسی بھی فلسطینی حکومت سے الگ رکھا جائے اور اسرائیلی قیدیوں کی مکمل رہائی یقینی بنائی جائے۔
اٹلی کی وزیراعظم کے مطابق غزہ کے بحران کا حل اسی وقت ممکن ہے جب فلسطینی عوام کو ایک ایسی سیاسی نمائندگی ملے جو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے آزاد ہو۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک حماس فلسطین کی حکومت میں شمولیت کے اپنے عزائم کو اعلانیہ ترک نہیں کرتی اس وقت تک وہاں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
میلونی نے یہ بھی کہا کہ عالمی برادری کو دباؤ اسرائیل پر نہیں بلکہ حماس پر ڈالنا چاہیے کیونکہ یہ جنگ حماس نے شروع کی تھی اور اسی نے اس کے خاتمے میں رکاوٹیں کھڑی کی ہوئی ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں میں کئی یورپی ممالک، جیسے کہ آئرلینڈ، اسپین اور لکسمبرگ، نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس کے برعکس جرمنی اور اب اٹلی جیسے ممالک اس تسلیم کو بعض شرائط سے مشروط کر رہے ہیں۔ یوں یورپی یونین کے اندر فلسطینی ریاست کے معاملے پر واضح تقسیم سامنے آ رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان