محمود عباس کا مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے نئے آغاز کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
محمود عباس کا مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے نئے آغاز کا مطالبہ مغربی ممالک کا ویسٹ بینک میڈیکل کوریڈور کھولنے کا مطالبہ یورپی دباؤ کے باوجود سربیا کا روس سے گیس کی درآمد کا معاہدہ کوپن ہیگن ایئرپورٹ پر ڈرونز کی وجہ سے آپریشن معطل، تخریب کاری کے خطرے کا انتباہ یوکرینی ڈرون حملوں سے روسی ایئرپورٹس میں آپریشن معطل، درجنوں پروازیں متاثر محمود عباس کا مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے نئے آغاز کا مطالبہ
فلسطینی صدر محمود عباس نے نیویارک میں مشرق وسطیٰ امن کانفرنس سے ویڈیو لنک خطاب میں کہا کہ آزادی اور امن کی صبح قریب ہے۔
انہوں نے اسرائیل سے فوری مذاکرات کی اپیل کی تاکہ غزہ میں خونریزی ختم ہو اور جامع امن قائم ہو۔(جاری ہے)
عباس نے اعلان کیا کہ مستقبل کی فلسطینی ریاست میں حماس کا حکومت میں کوئی کردار نہیں ہوگا اور تمام دھڑے اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کریں۔
انہوں نے فرانس، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے حال ہی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی حکومت نے فلسطینی وفد کے ویزے منسوخ کر دیے تھے جس کے باعث عباس اور فلسطینی اتھارٹی کا وفد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شریک نہیں ہو سکے۔ اسی تناظر میں محمود عباس نے ویڈیو لنک کے ذریعے نیویارک میں فلسطین کے موضوع پر منعقدہ عالمی کانفرنس میں شرکت کی۔فرانس اور سعودی عرب کی میزبانی میں منعقدہ اس اجلاس کا مقصد دو ریاستی حل کے لیے نئی راہ ہموار کرنا اور اسرائیل پر مذاکرات کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔
دنیا کے تقریباً 150 ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔مغربی ممالک کا ویسٹ بینک میڈیکل کوریڈور کھولنے کا مطالبہ
متعدد مغربی ممالک نے اسرائیل سے اپیل کی ہے کہ غزہ اور مقبوضہ ویسٹ بینک کے درمیان میڈیکل کوریڈور دوبارہ کھولا جائے تاکہ غزہ کے مریض بروقت علاج کے لیے منتقل ہو سکیں۔ کینیڈا، جرمنی، فرانس، اٹلی اور آسٹریا سمیت دو درجن ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ مالی امداد، طبی عملہ اور سامان فراہم کرنے کو تیار ہیں۔
تاہم امریکہ اس بیان کا حصہ نہیں ہے۔مغربی ممالک نے اسرائیل پر زور دیا ہےکہ وہ ادویات اور طبی سامان کی ترسیل پر عائد پابندیاں بھی ختم کرے۔ اسرائیل ماضی میں سلامتی خدشات کا حوالہ دے کر ایسے مطالبات مسترد کرتا آیا ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق غزہ میں صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر ہے اور جاری بحران عام افراد کے لیے مکمل تباہی کے مترادف ہے۔
یورپی دباؤ کے باوجود سربیا کا روس سے گیس کی درآمد کا معاہدہسربیا اگلے ماہ روس کے ساتھ گیس کی درآمد کے لیے تین سالہ معاہدے پر دستخط کرے گا جس کے تحت سالانہ 2.
انہوں نے بتایا کہ سربیا کی گیس اسٹوریج میں 780 ملین مکعب میٹر گیس موجود ہے جبکہ ہنگری کے اسٹوریج سے اضافی 200 ملین مکعب میٹر حاصل رکھنے کا آپشن بھی موجود ہے۔
سربیا یورپی یونین میں شمولیت کا خواہاں ہے لیکن اب بھی چند یورپی ممالک میں سے ہے جو روسی گیس خرید رہے ہیں۔ مغربی ممالک کی جانب سے سربیا پر یوکرین جنگ کے بعد سے روس پر عائد یورپی پابندیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کا دباؤ ہے، مگر سربیا نے ابھی تک ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
اسی دوران، سربیا کی تیل کمپنی NIS — جو روسی کمپنی گیزپروم نیفٹ اور گیزپروم کی اکثریتی ملکیت ہے — امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے ساتویں استثنیٰ کی درخواست کر رہی ہے۔ منگل کو صدر الیگزینڈر وُچچ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کر رہے ہیں جس میں ان پابندیوں اور تجارتی ٹیرف پر بات چیت ہو گی۔
ڈنمارک کے کوپن ہیگن ایئرپورٹ پر پیر کی رات دو سے تین بڑے ڈرونز نظر آنے کے بعد پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔
پولیس اور انٹیلی جنس حکام کے مطابق شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ اس کارروائی کے پیچھے کوئی ’’ماہر ایکٹر‘‘ ہے۔ڈنمارک کی خفیہ ایجنسی PET نے منگل کو خبردار کیا کہ ملک کو اس وقت ’’تخریب کاری کے سنگین خطرے‘‘ کا سامنا ہے۔
وزیراعظم میٹے فریڈریکسن نے واقعے کو ڈنمارک کے اہم انفراسٹرکچر پر ’’اب تک کا سب سے سنگین حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ اس دور کی نشاندہی کرتا ہے جس میں ہم رہ رہے ہیں اور بطور معاشرہ ہمیں ایسے خطرات کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ وزیراعظم کے مطابق کسی بھی امکان کو رد نہیں کیا جا رہا کہ اس کے پیچھے کون ہو سکتا ہے۔ یوکرینی ڈرون حملوں سے روسی ایئرپورٹس میں آپریشن معطل، درجنوں پروازیں متاثرروس کے حکام کے مطابق پیر کی رات یوکرین کے بڑے پیمانے پر ڈرون حملوں کے بعد کئی ایئرپورٹس کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔
ماسکو کا سب سے بڑا ایئرپورٹ شیریمیٹیوو تقریباً چار گھنٹے تک آمد و رفت کے لیے بند رہا جبکہ درجنوں پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ روسی فضائی کمپنی ایروفلوٹ نے کہا ہے کہ مکمل شیڈول بحال کرنے میں ایک دن درکار ہو گا۔روسی فوج کے مطابق اس نے 69 یوکرینی ڈرونز مار گرائے، تاہم منگل کی صبح بھی ماسکو کے اوپر ڈرونز کی نشاندہی کی گئی ہے۔
دوسری جانب یوکرین نے دعویٰ کیا کہ روس نے 116 ڈرونز سے یوکرین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جن میں سے زیادہ تر کو تباہ کر دیا گیا۔ یوکرینی حکام کے مطابق روسی افواج نے جنوبی شہر زاپوریزژیا پر چھ بم بھی گرائے جس سے شہری عمارتیں متاثر ہوئیں اور ایک شخص ہلاک ہوا۔ ایک رات پہلے اسی شہر پر فضائی حملے میں تین افراد مارے گئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ملین مکعب میٹر مغربی ممالک کا مطالبہ انہوں نے کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی