فرانس سمیت مزید 6 ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے قبل ایک اہم سفارتی پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں فرانس، اینڈورا، بیلجیم، لکسمبرگ، مالٹا اور موناکو نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو نمائشی اقدام قرار دیدیا، اسرائیلی وزیراعظم بھی برہم
اس موقع پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ آج میں اعلان کرتا ہوں کہ فرانس فلسطین کو ایک ریاست تسلیم کرتا ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دو ریاستی حل کے امکانات کو محفوظ رکھیں۔
سربراہی اجلاس اور عالمی رہنماؤں کی شرکتیہ اعلان فرانس اور سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں آسٹریلیا، کینیڈا، پرتگال اور برطانیہ کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا، جنہوں نے ایک روز قبل ہی فلسطین کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
میکرون نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دیرپا امن کے لیے دو ریاستی حل ہی واحد راستہ ہے۔
عالمی ردعمل اور بیاناتہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ 2 ریاستی حل اس وقت ممکن نہیں جب ایک ریاست کے عوام نسل کشی کا شکار ہوں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے اس موقع پر کہا کہ فلسطینی ریاست کا قیام ایک حق ہے، انعام نہیں، اور یہ کہ عالمی برادری کو اس دیرینہ مسئلے کے حل کی طرف بڑھنا ہوگا۔
فلسطینی قیادت کا خیرمقدمفلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے ویڈیو پیغام میں ان ممالک کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک کو بھی اسی راستے پر چلنا چاہیے۔
انہوں نے فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کا مطالبہ بھی دہرایا۔
اسرائیل اور امریکا کی مخالفتاسرائیل اور امریکا نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ اسرائیلی مندوب نے اس اجلاس کو ’سرکس‘ قرار دیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس اقدام کو ’حماس کے لیے انعام‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امن کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا۔
امریکا نے اشارہ دیا کہ وہ سلامتی کونسل میں اپنی ویٹو پاور استعمال کرکے فلسطین کی مکمل رکنیت کی راہ روک سکتا ہے۔
موجودہ عالمی صورت حالاب تک اقوام متحدہ کے 193 میں سے 147 رکن ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرچکے ہیں۔
اس طرح دنیا کے 80 فیصد سے زیادہ ممالک فلسطین کی ریاستی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ تاہم، غزہ پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 65 ہزار سے زائد فلسطینی جان سے جا چکے ہیں اور خطہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔
یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام محض علامتی نہیں بلکہ ایک عملی دباؤ ہے تاکہ جنگ کو روکا جا سکے اور امن کی نئی راہیں کھل سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا برطانیہ فرانس فلسطین محمود عباس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا برطانیہ فلسطین فلسطینی ریاست اقوام متحدہ فلسطین کو نے فلسطین کو تسلیم کہا کہ
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔