data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے اسرائیلی جارحیت، دوحہ پر حملے اور گریٹر اسرائیل منصوبے کی شدید مذمت کی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق  امیر قطر نے عالمی برادری کو متنبہ کیا کہ اسرائیل کی پالیسی نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ عالمی استحکام کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 9 ستمبر کو دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی ایک کھلی کوشش اورسیاسی قتل و غارت پر مبنی سفارتکاری کی عکاسی ہے،  اس حملے میں ایک قطری شہری جاں بحق ہوا، جو اسرائیلی عزائم کا واضح ثبوت ہے۔

اپنے خطاب میں انھوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ مذاکرات کی آڑ میں اپنے مخالفین کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کرتا ہے، اسرائیلی وفود مختلف ممالک میں آکر بظاہر مذاکرات کا ڈھونگ رچاتے ہیں لیکن پسِ پردہ انھی مذاکراتی ٹیموں کے اراکین پر حملے کرواتے ہیں۔

شیخ تمیم نے کہا کہ اسرائیل اپنے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ غزہ میں قیدیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات چاہتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ غزہ کو ناقابلِ رہائش بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی قیادت جنگ کو طول دے کرگریٹر اسرائیل” کے خواب کو حقیقت بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جس میں نئی یہودی بستیاں بسانا اور مقدس مقامات کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کرنا شامل ہے۔

امیر قطر نے یہ بھی واضح کیا کہ تمام تر مشکلات اور اسرائیلی اشتعال انگیزی کے باوجود قطر اپنی سفارتی کوششیں ترک نہیں کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ان کا ملک امریکا اور مصر کے ساتھ مل کر غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

خطاب کے دوران شیخ تمیم نے عالمی قوانین کی یکساں پاسداری پر زور دیتے ہوئے  کہا کہ اگر بین الاقوامی اصول و قوانین سبھی ممالک کے لیے یکساں نہیں ہوں گے تو عالمی امن و استحکام شدید خطرے سے دوچار ہو جائے گا۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان