اسرائیل کیخلاف کارروائی: امریکا کا پوری عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگانے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
اسرائیل کیخلاف کارروائی: امریکا کا پوری عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگانے پر غور WhatsAppFacebookTwitter 0 23 September, 2025 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکا کی جانب سے رواں ہفتے پوری عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جس سے عدالت کے روزمرہ امور بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں، یہ اقدام اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات کے ردعمل میں سامنے آ رہا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن پہلے ہی عدالت کے متعدد ججوں اور پراسیکیوٹرز پر انفرادی پابندیاں لگا چکا ہے، لیکن ادارے کے طور پر آئی سی سی کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنا ایک بڑی پیش رفت تصور ہوگی۔
معاملے سے آگاہ 6 ذرائع نے حساس نوعیت کے اس سفارتی معاملے پر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایسی ادارہ جاتی پابندیوں کا فیصلہ جلد ممکن ہے۔ایک ذریعے کے مطابق عدالت کے عہدیداران نے اس خدشے کے اثرات پر ہنگامی اندرونی اجلاس بھی منعقد کیے ہیں، جبکہ 2 دیگر ذرائع کے مطابق رکن ممالک کے سفارتکاروں کی سطح پر بھی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ایک امریکی عہدیدار نے تصدیق کی کہ عدالت پر ادارہ جاتی سطح پر پابندیوں پر غور ہو رہا ہے،
تاہم انہوں نے اس کی حتمی تاریخ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے عدالت پر یہ الزام لگایا کہ وہ امریکا اور اسرائیلی اہلکاروں پر مبینہ دائرہ اختیار قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور کہا کہ واشنگٹن مزید اقدامات کرے گا۔ترجمان نے کہا کہ آئی سی سی کے پاس اپنا راستہ بدلنے کا موقع ہے، جس کے لیے اہم اور موزوں ڈھانچہ جاتی تبدیلیاں ضروری ہیں، جب تک آئی سی سی ہمارے قومی مفادات کے لیے خطرہ بنی رہے گی، امریکا اپنے بہادر اہلکاروں اور دوسروں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسپریم کورٹ، 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر سپریم کورٹ، 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر پنجاب سے آٹے اور گندم کی بندش، خیبرپختونخوا حکومت کا سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو ازدواجی تعلقات کے لیے سہولت فراہم کرنے کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری جی اے کے ہیلتھ کیئر انٹرنیشنل کا انڈونیشیا میں اسٹریٹیجک توسیع کا آغاز غیر متنازعہ فیصلوں کیلئے مشہور دنیائے کرکٹ کے لیجنڈری امپائر ڈکی برڈ انتقال کر گئے بی آئی ایس پی کو فراڈ کہنے والوں کو معافی مانگنی چاییے، نام کسی صورت تبدیل نہیں ہوگا:سینیٹر روبینہ خالدCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔