پڑوسیوں میں جھگڑا، بچوں کو پیزا کھلانے اور چھاچ پلانے کا دلچسپ عدالتی حکم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
پالتو جانوروں کے جھگڑے کا انوکھا انجام، دہلی ہائی کورٹ نے بچوں کو ’امول چھاچ اور پیزا‘ کھلانے کا حکم دے دیا۔
دہلی ہائی کورٹ نے ایک دلچسپ اور انوکھا حکم دیتے ہوئے دو ہمسایوں کو، جو پالتو جانوروں کے تنازع پر جھگڑ پڑے تھے، کہا کہ وہ صلح کی شرط کے طور پر سرکاری یتیم خانے کے بچوں اور عملے کو ’امول چھاچ اور سبزی والا پیزا‘ کھلائیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسپین کے ایک قصبے میں مرنا کیوں منع ہے؟ دلچسپ وجہ
جسٹس ارون مونگا کی سربراہی میں کیس کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ دونوں ہمسایوں نے ایک دوسرے کے خلاف مارپیٹ اور بدسلوکی کے الزامات میں مقدمات درج کرائے تھے، تاہم بعد میں دونوں نے معاملہ آپس میں نمٹا لیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ یہ جھگڑا نجی نوعیت کا ہے، اس لیے مقدمات جاری رکھنا بے فائدہ ہوگا۔
تاہم عدالت نے مقدمات ختم کرنے کے لیے شرط رکھی کہ دونوں فریق دہلی کے جی ٹی بی اسپتال کے قریب ’سنکار آشرم‘ کے بچوں اور عملے کو پیزا اور چھاچ پیش کریں۔
عدالت نے حکم دیا کہ ہر بچے اور عملے کے رکن کو ایک پیزا اور امول چھاچ کا ایک ٹیٹرا پیک دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کے بیٹے ایرک کا سومو پہلوان سے دلچسپ مقابلہ، ویڈیو وائرل
خاص بات یہ ہے کہ پیزا انہی شکایت کنندہ کی بیکری سے تیار ہوگا جو خود پیزا بیچنے کا کام کرتا ہے۔ عدالت نے اس خدمت کو ’کمیونٹی سروس‘ قرار دیا۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ دونوں فریقین عدالت کے حکم پر عمل کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت پیزا چھاچ دہلی ہائیکورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پیزا دہلی ہائیکورٹ عدالت نے
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔