کیا یہ 1500 سالہ میلاد النبی تھا؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250924-03-5
امیر محمد کلوڑ
ہم پاکستانی وہ معصوم اور سادہ لوح قوم ہیں جو بغیر سوچے سمجھے بغیر کسی تحقیق کے اس بات کا جائزہ لینے سے پہلے کہ یہ بات درست ہے یا نہیں، اس بات کو مان لیتے ہیں۔ حالانکہ ہمیں ایک بنیادی اصول کو سمجھنا ہوگا جو ہمارے دین کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ اصول ہمیں جذبات میں بہہ کر کوئی بھی بات مان لینے سے روکتا ہے اور تحقیق و تفکر کی دعوت دیتا ہے۔ بخاری اور مسلم میں سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت میں ایک یہ بھی ارشاد نبوی ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ بھلائی کی بات کہے یا خاموش رہے۔ اور اگر کوئی بری بات سنے تو دوسرے لوگوں کو نہ بتائے‘‘۔ برائی کو ڈھانپ دینا ہی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور اس حدیث مبارکہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر سنی سنائی بات کو بغیر جانچے پڑتالے آگے نہیں پھیلانا چاہیے، خواہ وہ کتنی ہی پرکشش یا جذباتی کیوں نہ لگے۔ یہی وہ علمی دیانتداری ہے جو ایک مسلمان کو زیب دیتی ہے۔
تو آتے ہیں اپنے اصل موضوع پر کہ کیا یہ 1500 سالہ جشن میلادالنبیؐ تھا؟ تو اس کا جواب ہے نہیں۔ کیونکہ معتبر کتابوں میں جن میں تاریخ ابن کثیر جلد 2 صفحہ 261 اور فتح الباری جلد 6 میں درج ہے اس کے علاؤہ جو بھی تاریخ کی کتابیں ہیں چاہے وہ انسائکلوپیڈیا برٹانیکا (Volume 8 Page No.
یہ سمجھنے کے لیے ہمیں دو اہم تقویموں کے فرق کو جاننا ہوگا: قمری تقویم اور شمسی تقویم۔ قمری تقویم چاند کے orbits کے حساب سے بنائی جاتی ہے جبکہ شمسی تقویم سورج کے گرد زمین کے سفر کے حساب سے۔ یہی بنیادی فرق دونوں کے درمیان ایک بڑے اختلاف کا سبب بنتا ہے۔ ایک قمری (اسلامی) سال: 354 دن کا ہوتا ہے اور ایک شمسی (انگریزی) سال: 365 دن کا ہوتا ہے۔ تو یہ 11 دن فی سال کا فرق ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر سال قمری تقویم، شمسی تقویم سے تقریباً گیارہ دن پیچھے رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک اور عیدین ہر سال تقریباً دس یا گیارہ دن پہلے آتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہجری سال ’’پیچھے رہتا‘‘ ہے اور عیسوی کے حساب سے آگے نکلتا محسوس ہوتا ہے۔ اب آتے ہیں کہ 1500 سال کب پورے ہوں گے؟ اس کا حساب لگانے کے لیے ہمیں دو الگ الگ طریقوں سے سوچنا ہوگا۔
1۔ شمسی (عیسوی) حساب سے:نبی کریمؐ کی ولادت 570 عیسوی میں ہوئی۔ ولادت سے 1500 سال کا حساب لگانا ہو تو ہم بڑی آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ 570 + 1500 = 2070 عیسوی کے آس پاس۔ یعنی ولادت کے 1500 شمسی سال مکمل ہوں گے۔ اس وقت ہم 2025 عیسوی میں ہیں، یعنی ابھی تو اس میں بھی کئی دہائیاں باقی ہیں۔
1۔ قمری (ہجری) حساب سے: یہ تھوڑا زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ ہجری کیلنڈر کی شروعات ولادت باسعادت سے نہیں بلکہ ہجرت مدینہ سے ہوتی ہے۔ نبی پاکؐ کی ولادت ہجرت سے تقریباً 53 سال پہلے ہوئی تھی۔ لہٰذا، ولادت کے قمری سال کا حساب لگانے کے لیے ہمیں ہجری سال میں وہ 53 سال کا فرق بھی جوڑنا ہوگا۔
فرض کریں ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ولادت کے 1500 قمری سال کب پورے ہوں گے۔ اس کے لیے ہمیں موجودہ ہجری سال (1447ھ) میں 1500 کا اضافہ کرنا ہوگا، لیکن پھر اس میں سے وہ 53 سال بھی نکالنے ہوں گے جو ہجرت سے پہلے کے ہیں؟ درحقیقت، یہ حساب کتاب بہت intricate ہے اور ماہرین فلکیات اور مورخین کے لیے ہے۔ لیکن ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم صرف ہجری سال کے حساب سے دیکھیں کہ 1500 ہجری کا سال کب آئے گا، اگرچہ یہ ولادت کا نہیں بلکہ ہجرت کا سال ہوگا۔ اب میں آپ کو بتاتا ہوں تاکہ آپ کو آسانی سے سمجھ میں آجائے کہ کون سا ہجری سال کس عیسوی (میلادی) سال کے قریب آتا ہے۔ یہ ایک تقریبی حساب ہے:
ہجری سال – عیسوی سال (تقریباً) 1450 ہجری- 2028 عیسوی، 1460 ہجری- 2037 عیسوی، 1470 ہجری- 2046 عیسوی، 1480 ہجری- 2055 عیسوی، 1490 ہجری- 2065 عیسوی، 1500 ہجری – 2076 عیسوی یعنی 1500 ہجری کا آغاز تقریباً 2076 عیسوی میں ہوگا۔ اور جیسا کہ اوپر بتایا، ولادت کے 1500 شمسی سال 2070 عیسوی میں پورے ہوں گے۔ اس کے مقابلے میں، آج ہم 2025 عیسوی اور 1447 ہجری میں ہیں۔ اس حساب سے یہ بات ہو جاتی ہے کہ نہ تو ولادت مبارکہ کے 1500 شمسی سال پورے ہوئے ہیں اور نہ ہی قمری سال۔ درحقیقت ہم اس وقت نبی کریمؐ کی ولادت کے تقریباً 1454 شمسی سال اور 1445 + 53 = تقریباً 1498 قمری سال مکمل کر چکے ہیں۔ قمری حساب سے 1500 سال پورے ہونے میں ابھی محض 2 سال ہی باقی ہیں، لیکن یہ 1500 ہجری نہیں ہوگا، بلکہ ولادت کے 1500 قمری سال ہوں گے، اور وہ بھی 1445 + 53 = 1498ھ کے حساب سے، یہ 1498ھ ہی ہے، اور 1500ھ نہیں۔
لیکن ایک سچے مسلمان ہونے کے ناتے، ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ہر معاملے میں درستی اور سچائی کو اپنائیں، خواہ وہ ہمارے جذبات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ نبی کریمؐ کی ذات اقدس ہمارے لیے سب کچھ ہے، اس محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم آپؐ سے منسوب ہر بات میں تحقیق اور دیانتداری سے کام لیں۔ ایک غلط عدد کا استعمال، چاہے وہ کتنی ہی نیک نیتی سے ہو، درحقیقت اس عظیم الشان موقع کی عظمت کو کم نہیں کرتا۔ بلکہ سچائی اور تاریخی درستی کے ساتھ منانا ہی ہمارے پیارے نبیؐ کے تعلیمات کے عین مطابق ہے۔
آخر میں، ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ محبت اور عقیدت کا اصل اظہار تقریبات منانے کے بجائے آپؐ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہے۔ آپؐ کی سیرت مبارکہ سے سبق لے کر اپنی زندگیوں کو سنوارنا ہی آپؐ کو سب سے بڑی خراج تحسین ہے۔ اللہ پاک ہمیں سچائی پر قائم رہنے اور اپنے نبی کریمؐ کی سچی محبت اور اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے ہمیں ولادت کے 1500 کے حساب سے عیسوی میں شمسی سال قمری سال کی ولادت ہجری سال ہوں گے ہے اور سال کا
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔