امریکی صدر دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں، پاکستان، بھارت جنگ بند کرانے پر شکریہ: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
اسلام آباد+ نیویارک (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن کے داعی ہیں۔ پاکستان بھارت جنگ بندی میں صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کا اہم کردار ہے۔ نیویارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں بھی امن کے لیے کوششوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت جنگ بندی میں صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کا اہم کردار ہے، انہوں نے جنگ بند کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور جمہوریہ آسٹریا کے وفاقی چانسلر کرسٹین سٹاکر نے دوطرفہ تجارتی تعلقات کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سیاحت کے شعبے میں تعاون کے فروغ کے لیے وفود کی سطح پر رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف اور جمہوریہ آسٹریا کے وفاقی چانسلر کرسٹین سٹاکر کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پاکستان کی طرف سے آسٹریا کے ساتھ باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے تجارت، سیاحت، موسمیاتی تبدیلی اور تعلیم کو دونوں ممالک کے مابین مثبت تعاون کے ممکنہ امکانات کے طور پر اجاگر کیا اور دوطرفہ تجارتی تعلقات کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔ آسٹریا کے چانسلر نے ملاقات پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور آسٹریا کے درمیان سیاحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے وفود کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے ساتھ دیرپا شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دین اسلام، تاریخ، بھائی چارے اور اعتماد کی بنیاد پر استوار تعلقات ہمیشہ قائم و دائم رہیں گے۔ سعودی عرب کے قومی دن کی مناسبت سے پاکستان ٹیلی ویژن پر عربی زبان میں اپنے پیغام میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے وہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیز آل سعود اور اپنے عزیز سعودی بھائیوں اور بہنوں کو سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر نہایت گرم جوشی کے ساتھ مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی مملکت سعودی عرب کو ہمیشہ ترقی اور عظمت سے نوازے۔ ہم سعودی بھائیوں‘ بہنوں کے ساتھ ملکر سعودی عرب کے عظیم الشان ترقی کے سفر پر فخر کرتے ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف جو اس وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک کے دورے پر ہیں، کی کویت کے ولی عہد شیخ صباح الخالد الحمد المبارک الصباح سے دوطرفہ ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پاکستان اور کویت کے درمیان دیرینہ، تاریخی برادرانہ تعلقات کا ذکر کیا۔ وزیرِ اعظم نے کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح کے لیے احترام اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان اور کویت ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ وزیراعظم نے پاکستان میں حالیہ سیلاب کے بعد کویت کے اظہار یکجہتی پر ولی عہد کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان کی ان تعلقات بالخصوص تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، لائیوسٹاک، افرادی قوت کی برآمد اور صحت کے شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان رواں برس کے آخر میں کویتی ولی عہد کی پاکستان کے سرکاری دورے پر میزبانی کا منتظر ہے، جس کی تاریخیں سفارتی ذرائع سے طے کی جا رہی ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال سمیت علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ولی عہد نے عالمی برادری کے سامنے فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کو موثر انداز میں بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن کے لیے اہم کردار ادا کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ اور کثیر جہتی فورمز پر قریبی تعاون کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی‘ اردن کے فرمانروا شاہ عبداﷲ اور انڈونیشیا کے صدر کے ساتھ ملاقات اور غیر رسمی گفتگو کی ہے۔ وزیراعظم نے صدر ٹرمپ سے ملاقات سے پہلے ہونے والی ملاقات میں غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیراعظم محمد شہباز شریف وزیراعظم نے پاکستان نے کہا کہ پاکستان شہباز شریف نے کا اظہار کیا سعودی عرب کے پاکستان اور ا سٹریا کے کے درمیان انہوں نے ولی عہد کے ساتھ کویت کے کے لیے
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔