غزہ پر مسلم اور عرب رہنماؤں سے ملاقات بہت اچھی رہی، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
مسلم اور عرب رہنماؤں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسی چیز کو ختم کریں گے، جو کہ ہم نے شروع نہیں کی، عظیم رہنماؤں کے ساتھ یہ بہت اچھی ملاقات رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ کے بارے میں مسلم اور عرب رہنماؤں سے ان کی ملاقات بہت اچھی رہی۔ یہ بہت کامیاب میٹنگ تھی۔ مسلم اور عرب رہنماؤں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کے علاوہ تمام بڑے پلئیرز سے ان کی یہ ملاقات بہت کامیاب رہی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی رہنماء سے بھی ان کی ملاقات ہوگی، اسرائیل کے ساتھ غزہ پر پیش رفت ہوسکتی ہے اور میرے خیال میں ہم غزہ کے لیے کچھ اقدام کرسکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم ایک ایسی چیز کو ختم کریں گے، جو کہ ہم نے شروع نہیں کی، عظیم رہنماؤں کے ساتھ یہ بہت اچھی ملاقات رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسلم اور عرب رہنماو ں سے ڈونلڈ ٹرمپ بہت اچھی
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔