ٹرمپ کی اقوام متحدہ آمد پر ایسکیلیٹر اچانک بند، تقریر کے دوران ٹیلی پرامپٹر نے بھی کام چھوڑدیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
نیو یارک ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 ستمبر2025ء ) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقوام متحدہ آمد پر پہلے ایسکیلیٹر اچانک بند ہوا اور اس کے بعد ان کی تقریر کے دوران ٹیلی پرامپٹر نے بھی کام چھوڑدیا۔ تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کی آمد کے دوران ایسکیلیٹر اچانک رک گیا، اس حوالے سے زیر گردش وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکی صدر اور خاتونِ اول نے جیسے ہی ایسکیلیٹر پر قدم رکھا تو وہ چلتے چلتے اچانک رک گیا، تاہم خاتونِ اول نے بنا کسی ناگواری کے اظہار کے نہایت پُرسکون انداز میں سیڑھیاں چڑھنا شروع کردیا۔
وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر خدشہ ظاہر کیا کہ شاید ایسکیلیٹر کو جان بوجھ کر روکا گیا ہے، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ ’اگر اقوام متحدہ کے اندر کسی نے صدر اور خاتونِ اول کے قدم رکھتے ہی جان بوجھ کر ایسکیلیٹر کو روکنے کی کوشش کی تو اس فرد کو فوراً برطرف کرتے ہوئے تفتیش کے دائرہ کار میں لایا جانا چاہیئے‘۔(جاری ہے)
اس کے جواب میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفان دوجارک نے صحافیوں کو بتایا کہ تکنیکی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسکیلیٹر رکنے کی اصل وجہ وائٹ ہاؤس کے ایک ویڈیو گرافر کی غیر ارادی حرکت تھی، جس نے اوپر موجود حفاظتی نظام کو متحرک کر دیا، ایسکیلیٹر کے اوپری حصے میں نصب حفاظتی نظام اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ کسی شخص یا چیز کے گیئرنگ میں پھنسنے یا کھینچے جانے سے بچاؤ کیا جا سکے، ویڈیو گرافر کی حرکت سے یہ حفاظتی نظام فعال ہو گیا جس کے باعث ایسکیلیٹر رک گیا۔
NEW: White House Press Secretary Karoline Leavitt calls for investigation after a UN escalator shut off as President Trump and First Lady Melania Trump stepped on.
According to The Times, UN staff members had previously "joked" about turning off the escalator.
"To mark Trump’s… pic.twitter.com/UE1AFdCn2R— Collin Rugg (@CollinRugg) September 23, 2025 ایسکلیٹر بند ہونے کے بعد ایک اور دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب صدر ٹرمپ کی تقریر کے دوران ٹیلی پرامپٹر نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا، اس پر امریکی صدر نے کہا کہ ’جو بھی اس ٹیلی پرامپٹر کو چلا رہا ہے وہ بڑی مشکل میں ہے، میں نے سات جنگیں ختم کیں، دنیا بھر کے رہنماؤں سے بات کی لیکن اقوام متحدہ سے مجھے صرف دو چیزیں ملیں جن میں ایک خراب ایسکلیٹر اور ایک خراب ٹیلی پرامپٹر شامل ہے‘۔
How can you not love this man.
"I ended seven wars and never even received a phone all from the UN. These are the two things I got from the UN, a bad escalator and a bad teleprompter." pic.twitter.com/dW1Ql4YrJv
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اقوام متحدہ کے دوران ٹرمپ کی
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔