فخر زمان ہیلمٹ پر گیند لگنے کے باوجود صحت مند قرار پائے
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں سری لنکا کے خلاف میچ کے دوران پاکستانی اوپنر فخر زمان کو ایک ناخوشگوار لمحے کا سامنا کرنا پڑا، جب فاسٹ بولر دشمناتھا چمیرا کی تیز گیند ان کے ہیلمٹ پر لگی۔
واقعے کے فوراً بعد گراؤنڈ میں موجود میڈیکل ٹیم نے انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ اس کے باوجود فخر زمان نے بیٹنگ جاری رکھی اور 19 گیندوں پر 17 رنز بنائے۔
میچ کے بعد ٹیم مینجمنٹ اور میڈیکل ٹیم کی جانب سے فخر زمان کی حالت کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ ان کی مکمل نگرانی کی گئی تاکہ کسی بھی قسم کی پیچیدگی یا چوٹ کے اثرات سامنے نہ آئیں۔ ذرائع کے مطابق فخر زمان نے سر میں کسی قسم کی تکلیف یا چکر آنے کی شکایت نہیں کی، جس پر انہیں باضابطہ طور پر فٹ قرار دے دیا گیا ہے۔
آئی سی سی کے ضوابط کے مطابق، اگر کسی کھلاڑی کو سر یا ہیلمٹ پر گیند لگے تو کم از کم 18 سے 20 گھنٹے تک اسے میڈیکل عملے کی زیر نگرانی رکھا جاتا ہے۔ اسی کے پیش نظر دبئی میں آج رات دوبارہ فخر زمان کا تفصیلی معائنہ کیا جائے گا تاکہ ان کی مکمل صحت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق میڈیکل رپورٹ حوصلہ افزا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ فخر زمان جمعرات کو بنگلہ دیش کے خلاف شیڈول میچ میں ٹیم کو دستیاب ہوں گے۔ ٹیم انتظامیہ اور مداحوں نے بھی اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ یہ نوجوان بلے باز محفوظ ہیں اور ایشیا کپ میں اپنی ٹیم کے لیے بھرپور کارکردگی دکھا سکیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔