وزیر تجارت جام کمال خان نے بدھ کو پاکستان میں تعینات پولینڈ کے سفیر ماسیج پسارسکی سے ملاقات میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کے دوران ہائیڈروکاربن، کان کنی اور زراعت کے شعبوں پر روشنی ڈالی گئی۔
جام کمال نے پاکستان میں پولینڈ کی سرکاری توانائی کمپنی اورلین (اوآرایل ای این) کی سرمایہ کاری کو سراہا، جو گزشتہ 26 برسوں کے دوران تیل و گیس کے شعبے میں تقریباً 50 کروڑ ڈالر لگا چکی ہے اور آئندہ دہائی میں اپنی سرمایہ کاری کو دگنا کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
سفیر پسارسکی نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان میں نئی ایکسپلوریشن لائسنسز سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مواقع فراہم کرتے ہیں، تاہم بعض زیر التوا مسائل کو حل کرنا بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے پولینڈ کی کمپنیوں کو پاکستان کی زرعی ویلیو چین میں شراکت داری کی دعوت دی، خاص طور پر پھلوں اور سبزیوں کی کولڈ اسٹوریج اور پروسیسنگ سہولیات میں سرمایہ کاری پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کان کنی کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی ترغیب دی، جہاں تانبے اور لیگنائٹ کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔
پسارسکی نے پولینڈ کی کان کنی اور زراعت میں عالمی حیثیت کا حوالہ دیتے ہوئے مشترکہ منصوبوں پر آمادگی ظاہر کی۔ دونوں فریقین نے تجاویز کو عملی شکل دینے اور اعلیٰ سطحی روابط کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
جام کمال نے پولینڈ کے سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ پسارسکی نے کہا کہ وارسا اسلام آباد کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کا خواہاں ہے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق