پاکستان اور پولینڈ کا تجارت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
وزیر تجارت جام کمال خان نے بدھ کو پاکستان میں تعینات پولینڈ کے سفیر ماسیج پسارسکی سے ملاقات میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کے دوران ہائیڈروکاربن، کان کنی اور زراعت کے شعبوں پر روشنی ڈالی گئی۔
جام کمال نے پاکستان میں پولینڈ کی سرکاری توانائی کمپنی اورلین (اوآرایل ای این) کی سرمایہ کاری کو سراہا، جو گزشتہ 26 برسوں کے دوران تیل و گیس کے شعبے میں تقریباً 50 کروڑ ڈالر لگا چکی ہے اور آئندہ دہائی میں اپنی سرمایہ کاری کو دگنا کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
سفیر پسارسکی نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان میں نئی ایکسپلوریشن لائسنسز سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مواقع فراہم کرتے ہیں، تاہم بعض زیر التوا مسائل کو حل کرنا بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے پولینڈ کی کمپنیوں کو پاکستان کی زرعی ویلیو چین میں شراکت داری کی دعوت دی، خاص طور پر پھلوں اور سبزیوں کی کولڈ اسٹوریج اور پروسیسنگ سہولیات میں سرمایہ کاری پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کان کنی کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی ترغیب دی، جہاں تانبے اور لیگنائٹ کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔
پسارسکی نے پولینڈ کی کان کنی اور زراعت میں عالمی حیثیت کا حوالہ دیتے ہوئے مشترکہ منصوبوں پر آمادگی ظاہر کی۔ دونوں فریقین نے تجاویز کو عملی شکل دینے اور اعلیٰ سطحی روابط کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
جام کمال نے پولینڈ کے سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ پسارسکی نے کہا کہ وارسا اسلام آباد کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کا خواہاں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔