سابق صوبائی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل اسی وقت محفوظ ہوسکتا ہے جب قلیل مدتی مالیاتی استحکام کو دیرپا اور پائیدار ترقی میں بدلا جائے، جس کے لیے حکومت، بزنس کمیونٹی اور عالمی شراکت داروں کو مل کر عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی کی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت اس وقت غیر معمولی چیلنجز اور تضادات کے دور سے گزر رہی ہے، ایک طرف پاکستان کے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے کردار اور اثر رسوخ کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ نے نئی بلندیاں چھوئی ہیں جو ایک لاکھ 57 ہزار پوائنٹ سے تجاوز کر گئی ہے، مگر دوسری جانب حالیہ سیلابوں نے زراعت، صنعت انفراسٹرکچر اور مقامی ابادی کو بدترین نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد 364 ملین ڈالر رہی لیکن غیر ملکی سرمایہ کاروں کے منافع کی بیرون ملک واپسی 593 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جس سے 229 ملین ڈالرکا خالص انخلا ریکارڈ ہوا، چین، برطانیہ اور نیدرلینڈز سمیت بڑے سرمایہ کار ممالک کی جانب سے یہ رجحان مستقبل کے منظر نامے کو ظاہر کرتا ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے پنجاب میں چاول کی 60 فیصد اور کپاس کی 35 فیصد فصل برباد ہوچکی ہے، جس سے نہ صرف غذائی تحفظ کو خطرہ لاحق ہے بلکہ مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کا خدشہ بھی ہے، کپاس کی فصل کی تباہی نے ٹیکسٹائل انڈسٹری سمیت برآمدات پرمبنی شعبوں کو شدید متاثر کیا ہے جبکہ سیالکوٹ، گجرانوالہ اور گجرات جیسے صنعتی مراکز بھی متاثر ہوئے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ غیر ملکی کمپنیوں کو اپنا منافع دوبارہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے ٹیکس مراعات اور آسان ریگولیشن فراہم کرے، ساتھ ہی پاکستان کے لیے نئے تجارتی مواقع پیدا کرنے کے لیے آسانیاں ممالک اور بنگلہ دیش کے ساتھ تجارتی تعلقات مزید مستحکم کرنا ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ باربار آنے والی قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی، موسمیاتی موافق انفراسٹرکچر اور جدید زرعی طریقوں پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ پاکستان کا مستقبل اسی وقت محفوظ ہوسکتا ہے جب قلیل مدتی مالیاتی استحکام کو دیرپا اور پائیدار ترقی میں بدلا جائے، جس کے لیے حکومت، بزنس کمیونٹی اور عالمی شراکت داروں کو مل کر عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میاں زاہد حسین نے نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔ 

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم