سکیورٹی فورسز کا ڈی آئی خان میں بڑا آپریشن، 13 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں سکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 13 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ آپریشن دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع پر کیا گیا، جس میں خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ہلاک دہشت گرد متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے، جن میں دسمبر 2023 کا درابن خودکش دھماکہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ یہ خوارج سرکاری افسران اور معصوم شہریوں کے اغوا، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں بھی شریک رہے۔
آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ علاقے میں مزید دہشت گردوں کی موجودگی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پاک فوج دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے اور ایسے عناصر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک