میکسیکو میں لاپتہ معروف کولمبین موسیقاروں کی لاشیں برآمد، تحقیقات جاری
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
میکسیکو میں گزشتہ ہفتے لاپتہ ہونے والے کولمبیا کے دو مشہور موسیقار بیرن سانچیز اور جارج ہیریرا مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 31 سالہ بیرن سانچیز اور 35 سالہ جارج ہیریرا کی لاشیں ملنے کے بعد ان کی ہلاکت یا ممکنہ قتل کی تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ نوجوان موسیقاروں کی موت نے مداحوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
دونوں موسیقاروں کو آخری بار میکسیکو سٹی کے پوش علاقے پولانکو میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے تھے۔ ان کے لاپتہ ہونے پر کولمبیا کے صدر نے میکسیکو کے صدر سے مدد کی درخواست کی تھی تاکہ دونوں فنکاروں کی تلاش ممکن ہوسکے۔
میکسیکو کی وزارت خارجہ نے کولمبیا کی حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔
اس واقعے کے بعد دونوں ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ اُٹھی ہے خاص طور پر ساتھی فنکاروں اور دونوں موسیقاروں کے مداحوں میں غم و غصہ پایا جارہا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔